صدر عارف علوی نے تین وفاقی وزرا سے حلف لے لیے
وفاقی کابینہ میں چوہدری شجاعت کے صاحبزادے چوہدری سالک بھی شامل، چیئرمین سی پیک اتھارٹی بنا دیا گیا، حلف برداری تقریب میں وزیراعظم بھی شریک۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 3 وفاقی وزراء اور ایک وزیر مملکت سے حلف لے لیا۔ حلف اٹھانے والوں میں سینئر سیاستدان چوہدری شجاعت کے صاحبزادے سالک چوہدری بھی شامل ہیں۔
حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی، حلف اٹھانے والے وفاقی وزرا میں مسلم لیگ (ن) کے جاوید لطیف، مسلم لیگ (ق) کے سالک چوہدری اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے آغا حسن بلوچ شامل ہیں۔
بی این پی کے محمد ہاشم نوتیزئی سے وزیر مملکت کے عہدے کا حلف لیا گیا۔
تقریب حلف برداری میں وزیراعظم شہباز شریف نےبھی شرکت کی، اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے ارکان سےحلف لینے سے انکار کردیا تھا۔
ایوان صدر کے ذرائع کا موقف تھا کہ خرابی صحت کی بنا پر صدر رخصت پر تھے جس کے سبب انہوں نے دونوں مواقعوں پرحلف نہیں لیا تھا۔
بعد ازاں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ سے دو الگ تقاریب میں حلف لئے تھے۔
حلف اٹھانے والی نومنتخب کابینہ میں سینئر سیاستدان چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی سالک چوہدری بھی شامل ہیں۔
چوہدری سالک کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا چارج دے دیا گیا ہے۔
سالک چوہدری نے 11 اپریل کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے رائے شماری میں شہباز شریف کو ووٹ دیا تھا۔
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے ان کی اجازت سے شہباز شریف کو ووٹ دیا تھا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے نومنتخب وفاقی وزیرآغا حسن بلوچ کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قلمدان دیا گیا ہے۔
بی این پی کے ہاشم نوتیزئی کو وزیر مملکت برائے توانائی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے تحریک انصاف کی سابق حکومت کی حمایت کی تھی مگر وزارت لینے سے انکار کر دیا تھا۔
بی این پی (مینگل) نے بعد میں بلوچستان سے متعلق مطالبات پر پیشرفت نہ ہونے پر وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔
بی این پی مینگل نے موجودہ حکومت کی حمایت کی تھی اور وفاقی کابینہ میں شمولیت کی حامی بھرلی تھی۔
لیکن بلوچستان کے تازہ رونما ہونے والے حالات کے سبب حلف برداری میں تاخیر کی تھی۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں مطالبات تسلیم ہونے پر بی این پی مینگل نے وفاقی کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔









