کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکا، تین چینی باشندوں سمیت 4 افراد چل بسے

دھماکا کامرس ڈیپارٹمنٹ کے قریب کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے باہر کھڑی وین میں ہوا، متعدد افراد زخمی ہیں، لاشیں اسپتال منتقل کرنے کا کام جاری۔

کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے قریب اساتذہ کو لے جانے والی وین میں دھماکے کے نتیجے میں  تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد چل بسے جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، مرنےوالوں میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے چینی ڈائریکٹر اور 2 چینی خواتین اساتذہ بھی شامل ہیں۔ پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق بی ایل اے کے مجید بریگیڈ نے خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، شری بلوچ عرف برامش بلوچ کا تعلق بی ایل اے کے مجید بریگیڈ سے تھا۔

کہا جا رہا ہے کہ شری بلوچ بی ایل اے کی پہلی خاتون خودکش بمبار تھی۔

جامعہ کراچی کے کامرس ڈیپارٹمنٹ کے قریب کھڑی وین میں زوردار دھماکا ہوا جس میں چار افراد جھلس کر لقمہ اجل بن گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کے مطابق امکان ہے کہ دھماکا خودکش تھا۔

انہوں نے کہا کہ برقع پوش خاتون وین کے قریب آئی تھی اور دھماکا ہوگیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ شواہد جمع کر رہا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں ایک طالبہ بھی شامل ہے، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وین میں لوگ موجود تھے، دھماکے کی آواز زور دار تھی۔

پولیس کے مطابق وین میں دھماکے کے باعث آگ لگ گئی، پولیس کے مطابق لاشیں اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں۔

رینجرز ذرائع کے مطابق دھماکے میں چار رینجرز اہلکار اور ایک پرائیوٹ گارڈ بھی زخمی ہوا۔

ایس پی گلشن کے مطابق دھماکا سلنڈر کا ہے یا تخریب کاری اس متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

وین میں غیر ملکی اساتذہ موجود تھے جو کہ گیسٹ ہاؤس سے کامرس ڈیپارٹمنٹ آ رہے تھے، ڈیپارٹمنٹ پہنچتے ہی دھماکا ہوا۔

رینجرز کی دو موٹرسائیکلیں وین کے آگے پیچھے موجود تھیں۔

متعلقہ تحاریر