عمران خان نے شریف فیملی کے کرپشن کیسز پر وائٹ پیپر جاری کردیا

عمران خان کا کہنا ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیےکہ ہماری پالا ایک مافیا سے پڑا ہے ، مافیا کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو خریدتے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے خلاف وائٹ پیپر جاری کردیا ، کہتے ہیں والد وزیراعظم اور بیٹا وزیراعلیٰ ضمانت پر ہیں، افسوس سے کہنا تھا ہمارا انصاف کا نظام بہت کمزور ہے ، اب انہیں این آر او ٹو ملنا شروع ہوگیا ، شریف فیملی پر 40 ارب روپے کی کرپشن کے 16 کیسز چل رہے ہیں۔ تمام کیسز ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور کے ہیں صرف مقصود چپڑاسی والا کیس ہمارے دور میں بنا۔

اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس اس ملک کا نظام انصاف بہت کمزور ہے، کبھی بینچ ٹوٹ جاتا تھا تو کبھی کمر میں درد ہو جاتا تھا، نیب کے سامنے جاتے ہیں تو جلسہ کے صورت میں جاتے ہیں، ہمارا انصاف کا نظام سوائے ایون فیلڈ کیس کے کسی کیس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان نے مئی کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کی کال دے دی

ن میں سے ش نکل گئی، کہاں ہے ن لیگ؟ شیخ رشید

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جو قرضہ تھا پاکستان کی جو لائیبیلیٹیز تھی ، وہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں چار گنا بڑھیں ، 2008 سے 2018 کے بیچ میں ، 60 سالوں میں پاکستان نے 6000 ارب قرض لیا تھا ، وہ دس سالوں میں 30000 ارب پر چلا گیا ۔ پاکستان کے جو اداروں کا حال تھا ، ملک کا جو حال تھا ، ملک بینک کرپٹ تھا ، ہمیں جب 2018 میں حکومت ملی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا جب ہماری حکومت آئی تو شریف خاندان ہمیں دھمکیاں دیتا تھا ، آج ہم جو ن لیگ کے کرپشن کے کیسز کا وائٹ پیپر جاری کررہے ہیں ان میں سے کون سے کیسز کا فیصلہ ہو گیا اور کون سے انڈر ٹرائل ہیں اور کن کیسز پر انکوائری چل رہی ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے دور حکومت میں ن لیگ پر کوئی کرپشن کا کیس نہیں بنایا ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں دو دو بار کرپشن کے کیسز پر نکالی گئیں ۔ مشرف نے انہیں پہلا این آر او دیا تو پتا چلنا چاہیے تھا کہ کتنا بڑا ملک کو نقصان ہوا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر تمام کیسز 2008 سے 2018 کے بیچ میں بنے ۔ یعنی ان کی حکومتوں کے دور میں بنے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں ان پر کوئی کیس نہیں بنا سوائے ایف آئی اے کیس کے علاوہ ۔ انہوں نے ابھی کام شروع کردیا ان کیسز کو ختم کرنے کا ۔ ملک کی فکر نہیں ہے ، مہنگائی بڑھتی جارہی ہے ، لوڈشیڈنگ سے لوگوں کےبرے حالات ہیں۔ ان لوگوں کا اصل ٹارگٹ یہ ہے کہ اب یہ دونوں اپنے آپ کو این آر او ٹو دیں گے۔

کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلا کیس جو ان پر بنا وہ یہ بنا کہ پاناما پیپرز میں ان کے نام سامنے آگئے ، پاناما پیپرز میں انکشاف ہوا کہ لندن کے سب سے مہنگے علاقے مے فیئر میں چار اپاڑٹمنٹس مریم صفدر کے نام پر تھے۔ ان کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک خسارے میں گیا ۔ یہ وہ خاندان ہے جو 30 سال سےملک کو لوٹ رہا ہے ۔ مریم نواز کو 8 سال قید کی سزا ہوئی مگر وہ ضمانت پر چل رہی ہیں۔ نواز شریف سزا ہو چکی ہے ، شہباز شریف کے خلاف ایف آئی اے نے صرف مقصود چپڑاسی والا کیس بنایا ہے ۔ مقصود چپڑاسی کے نام پر اربوں روپے ملک سے باہر بھیجے گئے۔ انہوں نے اپنے نوکروں کے نام پر ادھار پیسہ لیا ۔ 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیسز صرف ایف آئی اے کے پاس ہیں۔ انہوں نے آتےہیں ان افسران کو تبدیل کردیا جنہوں نے یہ کیسز بنائے تھے۔ پراسیکیوٹر کو عدالت جانے سے منع کردیا گیا۔ انہوں نے سارا ریکارڈ خود لے لیا ہے خطرہ ہے کہ غائب کردیا جائے گا۔ ان کے خلاف چار نیب کیسز ہیں ۔ حسن اور حسین پیپلز پارٹی کے دور فرار ہوئے ۔ سزا سے بچنے کے لیے ملک سے باہر بھاگے ہیں ، تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کے بیٹے کہتے ہیں ہم پاکستانی نہیں ہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سلمان شہباز ملک سے فرار تھا اب سنا ہے کہ واپس آرہا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کسی کو شک نہیں ہونا چاہیےکہ ہماری پالا ایک مافیا سے پڑا ہے ، مافیا کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو خریدتے ہیں ، میڈیا پر پیسہ چلاتے ہیں ، پتا چل گیا ہے کہ کون کون سے میڈیا کے افراد ہیں جو ہر برائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جن کو یہ مافیا خرید نہیں سکتا تو پھر یہ اس سے انتقام لیتے ہیں۔

مسجد نبویﷺ  کے اندر پیش آنے والے واقعے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ، تاہم میں چیلنج کرتا ہوں یہ جدھر بھی پبلک میں جائیں گے ان کے ساتھ وہ کچھ ہوگا جو کچھ مسجد نبویﷺ میں ہوا۔ جو کچھ لندن اور امریکہ میں ان کے خلاف ہورہا ہے ایسا ہی ہوگا ان کے ساتھ ۔ انہیں اندازہ نہیں ہے کہ پاکستانیوں کو ان پر کتنا غصہ ہے ۔

متعلقہ تحاریر