اچھی کارکردگی کے اعتراف کے باوجود حکومت کا رضا باقر کو گھر بھیجنے کا فیصلہ

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنے دور میں بہتری کام کیا تاہم حکومت نے انہیں مدت ملازمت میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کی طرح وفاقی حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو بھی گھر بھیجنے کی تیاری کر لی ہے ، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی تین سالہ مدت ملازمت کا آج آخری روز ہے تاہم وفاقی حکومت نے انہیں ملازمت میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے لکھا ہے کہ "کل گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی 3 سالہ میعاد ختم ہو رہی ہے۔ میں نے ان سے بات کی ہے اور انہیں حکومت کے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دی نیوز اخبار مثبت رپورٹنگ میں 5 ارب ڈالر آگے نکل گیا

مفتاح اسماعیل ٹیکس کلیکشن میں اضافے پر ایف بی آر کے معترف

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ” میں رضا کی پاکستان کے لیے خدمات کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ایک غیر معمولی قابل انسان ہیں ، ہم نے اپنے مختصر وقت میں ان کے ساتھ کام کیا۔ میں اس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔”

ایک جانب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، ڈاکٹر رضا باقر کی قابلیت کی تعریف کررہے ہیں وہیں دوسری جانب ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہ دینے کی توثیق بھی کررہے ہیں ، مطلب یہ کہ ان کا بیان ان کے عمل سے مطابقت نہیں رکھ رہا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” جیسا کہ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی مدت ختم ہوگئی ہے، قانون کے مطابق سینئر ترین ڈپٹی گورنر کو نئے گورنر کی تعیناتی تک قائم مقام گورنر تعینات کیا ہے۔”

 

مفتاح اسماعیل نے مزید لکھا ہے کہ ” ڈاکٹر مرتضیٰ سید کو آئی ایم ایف کے کام کرنے کا بھرپور تجربہ ہے ، وہ ایک نامور ماہر معاشیات، گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ سنبھالیں گے۔ میں ان کے نئے عہدے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔”

دوسری جانب ڈاکٹر رضا باقر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” الحمدللہ کل میں گورنر اسٹیٹ بینک کی حیثیت سے اپنے 3 سال مکمل کر رہا ہوں۔ اللہ کا کرم ہے کہ جس نے مجھے سرکاری عہدے پر اپنے ملک کی خدمت کا موقع دیا۔ میں اپنے ساتھی پاکستانیوں ، خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح سے عوامی خدمت پر توجہ کو مرکوز رکھیں۔”

ڈاکٹر شہباز گل کا ردعمل

وفاقی حکومت کے فیصلے پر طنز کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کےمعاون  خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ "ایف بی آر نے بہترین کارکردگی دکھاتےہوئے تاریخ کی بلند ترین ٹیکس کولیکشن کی ، لیکن چیئرمین ایف بی آر کو ہٹا دیا گیا۔”

شہباز گل نے مزید لکھا ہے کہ ” مفتاح اسماعیل ، رضا باقر کو غیر معمولی قابل آدمی قرار دے رہے کیوںکہ انہوں نے بہترین کام کیا۔ لیکن رضا باقر کو ہٹا دیا اللّٰہ رحم کرے پاکستان پر نوٹ چھاپنے، قرض کے ڈالر مارکیٹ میں جھونک کر ڈالر کی قیمت کم کرنے کا پلان۔”

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا اظہار افسوس

واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے چیئرمین ایف بی آر کو بہترین ٹیکس کولیکشن کے باوجود ان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

سابق چیئرمین ایف بی آر اشفاق احمد کو ہٹائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا ٹیکس کولیکشن میں اشفاق احمد کا بہت زیادہ تجربہ تھا شہباز شریف حکومت کو انکے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔

متعلقہ تحاریر