توہین مذہب کے مقدمات، حکومت کو غلطی کا احساس دلا دیا گیا

مصدق ملک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی کو بھی گرفتار نہیں کرنا چاہتی، پی ٹی آئی خود معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

گزشتہ دنوں مسجد نبوی ﷺ میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، حکومتی کابینہ کے اراکین جب عمرے کی ادائیگی کیلیے مسجد نبوی ﷺ میں موجود تھے تو پاکستانی شہریوں نے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس واقعے کے بعد سعودی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ نعرے بازی میں ملوث 5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں بشمول شیخ رشید اور فواد چوہدری کو توہین مذہب کے مقدمے میں نامزد کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مسجد نبوی ﷺ میں حکومت مخالف نعرے لگنے پر عمران خان کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔

اطلاعات یہ ہیں کہ مغربی ممالک کو شہباز شریف حکومت کا یہ اقدام ناگوار گزرا ہے کہ انہوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ کیوں درج کروایا۔

ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور لندن نے وفاقی حکومت کو اس معاملے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا۔

اسی کے بعد پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا۔

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما مصدق ملک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ کسی کو بھی گرفتار کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی خود اس معاملے کو ہوا دے رہی ہے اور سیاسی شہید بننا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی ذاتی و نجی زندگی اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرنے پر حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی بھی ںاخوش ہے۔

پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا کہ مخالف پی ٹی آئی رہنماؤں پر توہین مذہب کے مقدمات بہت پریشان کن بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی مذہبی بنیادوں پر بنائے گئے قوانین کو استعمال کرنے کی مذمت کی ہے، اب بھی کرتا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔

فرحت اللہ بابر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال روکنا ہے، اس کو ہوا نہیں دینی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسجد نبوی ﷺ میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد پی ٹی آئی زچ ہوچکی تھی لیکن حکومت نے توہین مذہب کے مقدمات درج کر کے اس کو ہیرو بنا دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو اپنی غلطی کا احساس ہوچکا ہے اور گزشتہ روز مصدق ملک نے جو مفاہمانہ انداز میں پریس کانفرنس کی وہ اسی غلط کا اعتراف تھا۔

متعلقہ تحاریر