ایکسپریس نیوز کے رپورٹر شبیر حسین فرض کی ادائیگی کے دوران چل بسے

شبیر حسین کو گزشتہ روز دل کی تکلیف ہوئی، چینل نے اسپتال جانے کیلیے گاڑی بھجوائی لیکن نوجوان رپورٹر نے فرض کو جان پر ترجیح دیکر مارننگ شو کیلیے بیپر دیا، دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا

ایکسپریس نیوز کے رپورٹر شبیر حسین صرف 38 سال کی عمر میں فرض کی ادائیگی کے دوران  دل کا دورہ پڑنے سے جان کی بازی ہارگئے۔

جوان صحافی کی اچانک موت نے صحافی برادری کو غمزدہ کردیا۔ وزیرصحت عبدالقادر پٹیل اور وزارت صحت نے شبیر حسین کے انتقال پر گہرے د کھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سینئر صحافی عامر متین پھر حنا پرویز بٹ سے الجھ پڑے

فرح خان سے متعلق سوال پر فواد چوہدری صحافیوں سے سینگ پھنسا بیٹھے

صحافی اور یوٹیوبراسد علی طور نے شبیر حسین کے انتقال کے حوالے سے اپنے ٹوئٹ  میں لکھا  کہ  ہم صحافی سیاستدانوں کےلفافےہوتےہیں یا غیرمُلکی سفارتخانوں سےپیسےلیتےہیں؟ چلئےصحافی شبیرحُسین کی کہانی سن لیجئےآج صُبح ہی انتقال ہواہے۔

اسد طور نے لکھا کہ یہ ننانوے فیصد صحافیوں کی کہانی ہے۔ صحافی شبیر حُسین کو آج صُبح سینے میں درد کی شکایت ہوئی تو ڈاکٹر کو کال کی تو  ڈاکٹر نے ہسپتال آنے کا کہا۔ لیکن دفتر کو 38 سالہ صحافی سے وڈیو بیپر چاہئے تھا اور ایک مڈل کلاس/ورکر کلاس کے صحافی پر نوکری کا اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ انکار کا رِسک “افورڈ” نہیں کرسکتا۔

اسد طور نے لکھا کہ  شبیر حُسین بھی ایک پیشہ ور لیکن قلم کے مزدور تھے اور بیپر دینے چلے گئے، فارغ ہوئے تو دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔

سینئر صحافی وسیم عباسی نے بھی شبیر حسین کے انتقال پر کچھ اسی قسم کے تاثرات کا اظہار کیا۔وسیم عباسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ  کہا جا رہا ہے کہ ایکسپریس کے رپورٹر شبیر حسین نے صبح ڈاکٹر کو کال کی کہ مجھے سینے میں شدید درد ہے ،ڈاکٹر نے پمز بلایا لیکن گاڑی پہنچ گئی کہ بیپر بھی ہے، بیپر دینے سیکرٹیریٹ پہنچ گیا اور  وہاں شدید اٹیک ہوا۔ یہ ہے پاکستانی صحافیوں پر کام کا پریشر۔

ایکسپریس نیوز سے وابستہ سینئر صحافی ثاقب بشیر نے  وسیم عباسی کے ٹوئٹ پر معاملے کی وضاحت کرتے  ہوئے لکھا کہ  آفس کو شبیر نے جب بتایا کہ اس کو تکلیف ہے تو فوری آفس کی گاڑی اس کے گھر بھیجی گئی بیپر منسوخ کروا کے فون کر کے شبیر کو بتایا گیا کہ گاڑی آپ کے پاس ہے پہلے چیک اپ کرائیں بیپر منسوخ کرا دیا ہے لیکن شبیر نے کہا میں بیپر کرا کے پمز جاؤں گا پھر اپنی مرضی سے بیپر دیا۔

وسیم عباسی نے لکھا کہ اگر آفس نے گاڑی بھیج کر چیک اپ کروانے کا کہا تھا تو یہ عمل قابل تعریف ہے مگر آج کا ٹی وی رپورٹر بے حد دباو میں کام کرتا ہے۔ اسے نوکری سے جانے کا ڈر اپنی صحت کا خیال بھی نہیں رکھنے دیتا۔۔ اللہ تعالی سب کو محفوظ رکھے۔

متعلقہ تحاریر