میں سیاست نہیں جہاد کررہا ہوں کل ہرصورت اسلام آباد پہنچوں گا، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے غیرملکی سازش سے ملک پر وہ لوگ مسلط کیے گئے جو مجرم ہیں آج عدلیہ نے جمہوریت کی حفاظت نہ کی تو تاریخی معاف نہیں کرے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے اس وقت کسی کے لیے نیوٹرل رہنے کی گنجائش نہیں ہے ، نیوٹرل رہنے کی اللہ ہمیں اجازت ہی نہیں دیتا ، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ اچھائی کے ساتھ ہیں یا برائی کے ساتھ ، اللہ نے آپ  کو بیچ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی ، کیونکہ بیچ میں بیٹھنے کا مطلب ہے کہ آپ مجرموں کے ساتھ ہیں ، نیوٹرل کو ان کا حلف یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سالمیت اور خودداری کی حفاظت کرنا ہے۔ جو کچھ ایکس فوجیوں سے ہورہا ہے قوم آپ کیطرف بھی دیکھ رہی ہے۔ اگر ملک تباہی کی طرف جاتا ہے تو آپ بھی اتنے ہی بڑے ذمہ دار ہوں گے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے میں سیاست نہیں جہاد کررہا ہوں کل ہر صورت میں اسلام آباد پہنچوں گا۔ موجودہ حکومت اور ڈکٹیٹرز میں کوئی فرق نہیں ہے ، جب یہ باہر ہوتے ہیں ہیں تو انہیں جمہوریت یاد آجاتی ہے، ایک ریٹائر میجر کے گھر چھاپہ مارا گیا ، ایسا کس ملک میں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل باجوہ صاحب! ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہنا جرم ہے،کامران خان

پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان کی اسمبلی رکنیت ختم، نوٹی فیکیشن جاری

عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں عدلیہ سے پوچھتا ہوں ، یہ مجرم ملک پر حکومت کررہے ہیں۔ احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے ، یہ لوگ تیس سال سے ملک کو لوٹرہے ہیں ، عدلیہ اپنے فیصلوں سے ملک کی جمہوریت کی حفاظت کرے ، آج ملک میں فیصلہ کن وقت ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا موجودہ حکومت نے ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر ملک کی معیشت تباہ کردی ہے ، روپیہ فری فال پر چلا گیا ہے اسٹاک ایکسچینج کریش کر گئی ہے۔ ہر روز مہنگائی بڑھتی جارہی ہے ابھی اصل مہنگائی کی لہر آئے گی جیسے روپیہ گرنے کا اثر مارکیٹ پر پڑے گا۔ جب تک یہ لوگ ہیں قوم کو اندھیرا نظر آرہا ہے ، اس کا ایک ہی جمہوری حل ہے کہ الیکشن کروا دیں ، اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ مجھے خوف محسوس ہورہا ہے کہ ہم سری لنکا بننے جارہے ہیں ، ہم ہفتوں میں سری لنکا کی صورتحال کی جانب جارہے ہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے عوام کی کوئی خدمت نہیں کرنی ہے بلکہ ایف آئی اے شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اپنے اپنے کیسز ختم کروانے ہیں۔ 24 ارب کے کیسز انہوں نے ختم کرنے ہیں۔ انہوں نے نیب ختم کرنی ہے انہوں نے الیکشن کمیشن کو اپنا غلام بنا رکھا ہے ۔ یہ الیکشن کمیشن میں بیٹھ یر پلاننگ کریں گے اور الیکشن جیتنے کی تیاریاں کریں گے۔ نیوٹرل کے لیے ، ججز کے لیے اور لائرز کےلیے یہ فیصلہ کن وقت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں ان تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو اس ملک کی سالمیت کے ساتھ کھڑے ہیں ، ان صحافیوں کو سلام پیش کرتاہوں جن کے خلاف آج ایف آئی آر کاٹی جارہی ہیں ، جن کو غدار کہا جارہا ہے قوم ان کو بہت دیر سے جانتی ہے۔ قوم ان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔

ان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ پتا ہے کہاں کہاں سے پیسہ آیا کس کس صحافی کو ملا ، جنہوں نے ہمارے خلاف کمپین چلائی۔ کہ ملک تباہ ہو گیا ، معیشت تباہ ہو گئی۔ اگر ایسا ہی تھا تو معیشت کے اعشاریہ ٹھیک کیسے آرہے ہیں۔ ہم نے کورونا کے باوجود معیشت کو 5.6 فیصد تک لے گئے ، تیسرے سال میں معیشت گروہ کرتی ہوئی 6 فیصد تک پہنچ گئی ۔ بتا دیا جائے کہ کبھی ایسے انڈسٹری نے ترقی کی تھی ، کسانوں نے ہمارے دور میں سب سے زیادہ پیسہ کمایا۔

عمران خان کا کہنا تھا بیرونی مداخلت سے 30 سال سے ملک کو لوٹنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا ۔ انہوں نے جمہوریت کی دھجیاں اس طرح اڑائیں جس طرح سے ڈکٹیٹر اڑاتے تھے، کل رات سے انہوں نے جو کچھ کیا اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ قوم ملک کے اداروں کیطرف دیکھ رہی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کیا ہم ان کے غلام ہیں ، اتنا بڑا ظلم ہوا اس قوم کے ساتھ اور ہمیں یہ بھی اجازت نہ ہو کہ ہم احتجاج کرسکیں۔ جب بلاول بھٹو اپنا لانگ مارچ لے کر آیا تھا ہم نے اس کو روکا تھا نہیں روکا تھا ۔ ہم نے کوئی رکاوٹ کھڑی کی تھی ۔ فضل الرحمان نے ہماری گورنمنٹ کے چند مہینوں کے بعد لانگ مارچ کردیا تھا۔

میں عدلیہ سے ادب کے ساتھ پوچھتا ہوں کہ اگر آپ  نے اس کی اجازت دی جو یہ سب کچھ کررہے ہیں ، لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ کیا ہماری عدلیہ اس بات کی اجازت دے گی؟ اگر  آپ نے اجازت دی تو اس ملک عدلیہ کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت نہیں ہے یہاں پر ۔ میں اپنے وکلاء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، وہ بار ایسوسی ایشن جو حکومت کی کارروائی کی مذمت نہیں کرے گی اس کا مطلب ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہے ۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے ساٹھ فیصد حکومتی کابینہ ضمانت ہے ۔ میں نے 26 سالہ سیاست میں کبھی قانون نہیں توڑا ، مجروموں کی کابینہ جو فیصلہ کیا ہے غیرقانونی فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر