مہنگائی مکاؤ مارچ کرنے والی ن لیگ نے پٹرول کیوں مہنگا کردیا؟

تحریک انصاف کے ٹوئٹر ہینڈل نے مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کے پی ٹی آئی دور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر دیے گئے تنقیدی بیانات کی وڈیو شیئر کردی

ماضی میں مہنگائی مکاؤ مارچ کے ذریعے عمران خان کی حکومت کے خلاف  تحریک شروع کرنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے  برسراقتدار آنے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30  روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جمعرات کو پریس کانفرنس اعلان کیا کہ حکومت نے جمعہ 27 مئی 2022 سے پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق گزشتہ رات 12 بجےسے ہوگیا۔اضافے کے بعد  پیٹرول کی نئی قیمت 179.86 روپے اور ڈیزل کی قیمت 174.15 روپے فی لیٹر ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد عوام پر پیٹرول بم گرا دیا

اسحٰق ڈار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو اضافے کو غلط قرار دیدیا

واضح رہے کہ ماضی میں مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں نے عمران خان کی حکومت کے ہر معاشی فیصلے کی مزاحمت کی تھی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خصوصاً مریم نواز اور حمزہ شہباز کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے مسلم لیگ ن کے مہنگائی مکاؤ مارچ کی قیادت کی تھی۔

پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل نے ایک ٹوئٹ میں پی ٹی آئی دور میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد لیگی رہنماؤں  کے تنقیدی بیانات کی وڈیو شیئر کردی۔ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ”پیاری “امپورٹڈ حکومت، اب جب کہ آپ نے پٹرول کی قیمتوں میں 30 روپے کا اضافہ کر دیا ہے، ہم آپ کو آپ کی منافقت یاد دلانا چاہتے ہیں۔ ماضی میں جب پیٹرول کی قیمتیں بڑھی تھیں تو آپ کیا کہتے تھے۔

وڈیو میں مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کے بیانات دکھائے گئے ہیں جس میں وہ پی ٹی آئی دور میں عالمی مارکیٹ کےنرخ   کی مناسبت سے  بڑھائی گئی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ٹوئٹر ہینڈل سے کیے گئے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ یاد رہے یہ وہی لوگ ہیں جو تحریک انصاف حکومت کے دور میں دعوے کرتے تھے کہ جب یہ حکومت میں آئیں گے تو 70 روپے فی لیٹر پیٹرول دیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں مزید کا  کہ پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مقرر کیں اور اب پاکستان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر آئی ایم ایف سے قرض حاصل نہیں کرسکتا۔

مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے جو کہ معیشت کی بحالی کے لیے قومی مفاد میں ہے۔

متعلقہ تحاریر