ڈاکٹر عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کے خلاف طوبیٰ اور بشریٰ ایک پیچ پر آگئیں
طوبیٰ انور نے قبر کشائی کرکے پوسٹ مارٹم کرنا لواحقین کے لیے انتہائی تکلیف دہ عمل قرار دیا

ڈاکٹرعامر لیاقت مرحوم کی بیوہ سیدہ طوبیٰ انور کا کہنا ہے کہ اگر حکام نے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرواناہی تھا توان کے انتقال کے دن ہی ایسا کرنا بہتر ہوتا۔ ان کے انتقال کے ایک ہفتے سے زیادہ کے بعد قبر کشائی پوسٹ مارٹم کے لیے کرنالواحقین کے لیےانتہائی تکلیف دہ ہے۔
مشہور و معروف ٹی وی اینکر ، مذہبی اسکالر اور ررکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی بیوہ طوبیٰ انور بھی پوسٹ مارٹم کے خلاف بشرا عامر کی ہمنوا بن گئیں ۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام نے انہوں نے قبر کشائی کو تکلیف دہ عمل قرار دیا ۔
یہ بھی پڑھیے
عدالت نے ڈاکٹر عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کروانے کا حکم دے دیا
طوبی ٰ انور نے کہا کہ عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم ضروری تھا تو انتقال کے دن ہی کروالیا جاتا اب قبر کشائی کرکے پوسٹ مارٹم کرنا لواحقین کے لیے نا قابل برداشت اور تکلیف دہ عمل ہوگا ۔
سیدہ طوبیٰ انور نے کہا کہ مجھے اللہ کی مر ضی پربھروسہ ہے۔ میرا یقین ہے کہ اللہ پاک ہمارےمعاملات کا بہترین انتظام کرنے والا ہے۔ اللہ پاک مرحوم اور لواحقین کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
اس سے قبل عامرلیاقت حسین کی پہلی بیوی بشریٰ اقبال نے قبرکشائی کرکے پوسٹ مارٹم کے خلاف پوسٹ کی۔ انہوں نے پوسٹمارٹم کے لیے عدالت کا رخ کرنے والے شہری کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ ہائیکورٹ کا عامر لیاقت حسین کا پوسٹ مارٹم روکنے کاحکم
انہوں نے لکھا کہ شریعت مطہرہ ہی اس قبیح عمل، مردے کی چیر پھاڑ اور قبر کشائی کی اجازت نہیں دیتی۔اللہ سب دیکھ رہا ہے۔
بشریٰ اقبال نے مزید لکھا کہ جنہوں نے پوسٹ مارٹم کروانے اور عامر کو انصاف دلوانے کا دعویٰ کیا ہے وہ اس وقت کہاں تھے جب وہ خود انصاف مانگ رہے تھے اور ان کی عزت کو تار تار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عامرلیاقت اُس قبیح حرکت کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے کہ جہاز سے سفر تک نہ کر پا رہے تھے۔









