دوست محمد مزاری کے غیرآئینی اقدمات، پرویزالہیٰ سپریم کورٹ پہنچ گئے
وزیر اعلیٰ پنجاب کے امیدوار پرویز الہیٰ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی ایوان میں پولیس بلانے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے
پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے آج کے اجلاس کے حوالے سے چیف سیکرٹری کو لکھے گئے خط کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوارپرویز الہیٰ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے چیف سیکرٹری کو لکھے گئے خط کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب پولیس کو اسمبلی میں داخلے سے روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
تختِ پنجاب حمزہ شہباز کا یا چوہدری پرویز الہٰی کا ، فیصلہ آج ہوگا
وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار چوہدری پرویز الہی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست موقف اختیار کیاکہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسمبلی میں وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے کرائے جائیں مگر پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری الیکشن کے عمل کو تہ و بالا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں سیکیورٹی کے لیے چیف سیکرٹری کو لکھے گئے خط سے ڈپٹی اسپیکر کی بد نیتی کو ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے آئی جی پنجاب اور پولیس کو پنجاب اسمبلی میں داخلے سے روکا جائے۔
خط میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب اسمبلی میں سکیورٹی سارجنٹ ایٹ آرمز کی ذمہ داری ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر کی جانب سے تحریر کیے گئے خط میں خط میں پنجاب پولیس کو سیکیورٹی کے لیے کہا گیا ہے۔پرویز الہی نے استدعا کی کہ سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے سارجنٹ ایٹ آرمز کو حکم دیا جائے۔
پرویز الہی نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے خط کے خلاف ان کی درخواست کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
پرویزالٰہی کی جانب سے درخواست ان کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے دائر کی،جس میں مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وزارت اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز، ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری، آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلی کے امیدوار کے انتخاب کے لیے آج ہونے والے اجلاس کے حوالے سے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو خط لکھ کر سکیورٹی فراہم کرنےکا مطالبہ کیا تھا۔
خط میں کہا گیا تھا کہ پنجاب اسمبلی کی حدود اور ایوان میں بھی پولیس تعینات کی جائے اور تمام سکیورٹی انتظامات یقنیی بنائے جائیں تاکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وزیراعلیٰ کا انتخاب کرایا جاسکے۔ڈپٹی سپیکر کے خط پر انتظامیہ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر 1400 سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔









