جیو نیوز کے اینکر شہزاد اقبال بھی بجلی کا بل دیکھ کر چکرا گئے

شہزاد اقبال کو 166یونٹ بجلی کے استعمال پر 20ہزار روپے کا بل موصول، 14ہزار 254 روپے کا فیول پرایس ایڈجسٹمنٹ بھی شامل،کراچی کے صحافی عاطف حسین نے بجلی کا بل بھرنے سے معذوری ظاہر کردی، بل کی ادائیگی کیلیے تعاون کی اپیل

کراچی سے خیبر تک جولائی کے بجلی بلوں میں لگنے والے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ نے  عوام کو دن میں تارے دکھادیے ہیں۔کیا امیر کیا غریب ہر ایک بجلی کے اضافے بلوں کا رونا روتا نظر آرہا ہے۔جیونیوز کے  پروگرام نیا پاکستان کے میزبان شہزاد اقبال بھی جولائی کا بجلی کا بل دیکھ کر چکراگئے۔

 ہم نیوز کراچی بیورو کے رپورٹر عاطف حسین بھی جولائی کا بجلی کا بل دیکھ کر بلبلا اٹھے۔عاطف حسین نے بجلی کے بل کی ادائیگی سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے بل کی ادائیگی میں تعاون کی اپیل کردی۔

یہ بھی پڑھیے

بجلی کے بلوں نے عوام پر بجلی گرادی، فیصل آباد میں خواتین سڑکوں پر آگئیں

ایف بی آر کے کراچی سمیت 42 شہروں کیلئے پراپرٹی ریٹ جاری

شہزاد اقبال نے اپنے ٹوئٹ میں جولائی کے بل کی تصویر شیئر کرتے ہوئے  لکھا کہ گزشتہ ماہ میں سفر میں تھا اس کے باوجود اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی  (آئیسکو)کے اس بل کے مطابق  ہم نے 168یونٹ بجلی استعمال کی ہے جس کا بل مجموعی بل 20ہزار روپے آیا ہے۔

شہزاد اقبال نے مزید لکھا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اصل بل کا تقریباً3 گنا ہے۔شہزاد اقبال کی جانب سے شیئر کردہ بل  میں استعمال شدہ بجلی کی قیمت 4046روپے  جبکہ 14 ہزار 254 روپے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں شامل کیے گئے ہیں۔

آئیسکو نے شہزاد اقبال کے ٹوئٹ  پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ  معزز صارف جون کے مہینے میں استعمال کی گئی بجلی پر فی یونٹ 9.8 روپے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ لاگو کی گئی ہے۔

صارفین کی بڑی تعداد نے آئیسکو کے جواب پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ9.8 روپے کے حساب سے 168 یونٹ پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ  1662 روپے بنتی ہے پھر آئیسکو نے 14 ہزار روپے کس چیز کے چارج کیے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ  ایسا کس ملک میں ہوتا ہے کہ جو بل ادا کردیا جائے 2 ماہ بعد اس کے پیسے لینے آجاؤ۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ دنیا کا انوکھا لین دین کسی بھی چیز کی مکمل قیمت ادا کرنے کے بعد پھر دوبارہ اس کی اداٸیگی کریں کیوں کہ اس بدمعاشی کا حق ہمیں ملک کی عدالت بھی دیتی ہے کہ فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں دوبارہ سے وصولی کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب کراچی کے صحافی عاطف حسین بھی جولائی کا بجلی کا بل دیکھ کر بلبلا اٹھے۔ عاطف حسین نے کے الیکٹرک ہیڈ کوارٹر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا صحافی ہوں اور ماہانہ تنخؒواہ سے گھریلو اخراجات پورے کرتا ہوں اور اب بڑی مجبوری کے ساتھ درخواست کر رہا ہوں کہ میں   فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر کے الیکٹرک کے بھاری بل ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ برائے مہربانی بجلی کے بل کی ادائیگی  میں  میری مدد کریں۔

صارفین کی بڑی تعداد نے عاطف حسین کے مطالبے سے اتفاق کرتےہوئے وزیراعظم شہبازشریف سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر