حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پاکستان میں سوا 3 کروڑ لوگ متاثر ہوئے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور میجر جنرل بابر افتخار کی سیلاب کی صورتحال پر اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمارا ملک ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار نہیں مگر اس کی تباہ کاریوں سے پاکستان شدید متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سوا تین کروڑ لوگ سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی برادری حالیہ تاریخ کے بدترین سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کرے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کا ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل بابر افتخار اور چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا کی حالیہ تاریخ میں پاکستان کو سب سے بڑی موسمیاتی آفت اور سیلاب کی صورت میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا ، جس سے 3کروڑ 30 لاکھ افراد شدید متاثر اور ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آفت بہت بڑی ، وسائل محدود مگر ہم پُرعزم ہیں، پوری قوم کو یکجا ہوکر اس آفت کا مقابلہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں سیلاب متاثرین 20 لاکھ بچوں کا تعلیم سے منہ موڑنے کے خدشات

احسن اقبال کا کہنا تھا ملک کے کئی علاقوں میں معمول کی  15 یا 20 ملی میٹر بارش کی جگہ 1500 ملی میٹر بارش ہوئی، یہ ہماری 30 سال کی اوسط میں 500 گنا زیادہ بارشیں تھیں۔

وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ زیادہ بارش کے سندھ اور بلوچستان میں برے اثرات مرتب ہوئے ، اس کے علاوہ جنوبی پنجاب ، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے کچھ علاقے بھی متاثر ہوئے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر کا نظام  تباہ ہوگیا، بلوچستان کو ملک سے جوڑنے والی 14 بڑی شاہراہیں شدید متاثر ہوئیں ہیں ، جن کا ملکی معیشت میں بڑا کردار ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور مسلح افواج کے انجینئرز نے 11 قومی شاہراہیں بحال  کردیں، جب کہ تین کی بحالی کیلئے دن رات کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا،81 متاثرہ گرڈ اسٹیشنوں میں سے 69 اور متاثرہ 881 فیڈرز میں سے 758 بحال ہو چکے ہیں ، 123 کی بحالی پر کام جاری ہے، 8 ٹرانسمیشن لائنوں کو نقصان پہنچا، صوبہ بلوچستان میں متاثرہ لائنوں میں سے 6 بحال ہوچکی ہیں۔

ٹیلی مواصلات کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا، جن میں ساڑھے تین ہزار ٹیلی مواصلات ٹاورز شامل ہیں، جن میں سے 2900 بحال ہوچکے جبکہ باقی کی بحالی کے لئے وزیراعظم نے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے، ان کی 600 سے زیادہ ٹیمیں فیلڈ میں کام کررہی ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ ہمارا ملک عالمی حدت بڑھانے میں حصہ دار نہیں مگر اس کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ کاربن امیشن میں عالمی سطح پر پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر ہم اس ماحولیاتی تباہی کے نقصانات اور خطرات کا شکار ہونے والا 7واں سب سے بڑا ملک ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اہل وطن ، تارکین وطن اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کی بھرپور مدد کریں تاکہ متاثرہ علاقوں میں زندگی معمول پر آسکے۔

پریس کانفرنس سے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا خطاب

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے بتایا کہ حالیہ بارشوں سے ملک بھر میں 12 سو 65 افراد چل بسے جب کہ  12 ہزار 577 افراد زخمی ہوگئے۔ ملک میں 5 ہزار 563 کلومیٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا، 243 پل، 10 لاکھ 42 ہزار 723 گھر تباہ ہوئے جب کہ 7 لاکھ 35 سے زائد لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھاکہ گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کے سبب رواں برس بلوچستان میں 436 فیصد اور سندھ میں 464 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں، یہ بارشیں ان علاقوں میں ہوئیں جہاں عمومی طور پر بارشیں کم ہوتی تھیں۔ جس کے باعث غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ دوست ممالک کی جانب سے امدادی اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک امدادی سامان کی 29 پروازیں آچکی ہیں ، جن میں ترکیہ کی 10، یو اے ای کی 11، چین کی 4، قطر کی 2 جبکہ فرانس اور ازبکستان کی جانب سے ایک ایک پرواز شامل ہے،  دیگر ممالک سے پروزیں ابھی آنی ہیں، جو اشیاء بیرون ملک سے پاکستان پہنچی ہیں ان میں 2 ہزار 728 ٹینٹس، 98 ٹن کھانے پینے کی اشیا اور 50 کشتیاں شامل ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار کا پریس کانفرنس سے خطاب

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ اب تک 17 سو 93 ٹن راشن، 277 ٹن اشیائے ضروریہ، 7 لاکھ 70 ہزار ادویات متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا اب تک 135 پروازوں کے دوران ایک ہزار 521 افراد کو ریسکیو کیا، پاکستان نیوی نے اب تک 10 ہزار متاثرین کو ریسکیو کیا ہے۔

ڈی جی آئی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کے پی میں 1125 اور ملک کے دیگر حصوں سے آرمی ہیلپ لائن 1135 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، ملک میں 47 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ متاثرین کی امداد کے لیے آرمی ریلیف فنڈ قائم کردیا گیا ہے جس میں لوگ دل کھول کر عطیات جمع کرا رہے ہیں، آرمی کے جنرل آفیسرز نے ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھاکہ پاک فوج مشکل کی ہر گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے، اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حالیہ قدرتی آفت میں بھی تمام وسائل کو بروئے کار لا کر اس ناگہانی آفت سے نجات حاصل کریں گے۔

متعلقہ تحاریر