ڈاکٹر بیربل گینانی کے قتل کے الزام میں ان کی اسسٹنٹ ڈاکٹر قراۃ العین گرفتار

ماہر امراض چشم ڈاکٹر بیربل گینانی کو دو روز قبل کراچی کے علاقے لیاری ایکسپریس وے پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

معروف ماہر امراض چشم ڈاکٹر بیربل گینانی کے قتل میں کراچی سٹی پولیس کا اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے ، مقتول کے بھائی کی درخواست پر پولیس نے باقاعدہ طور پر ان کی اسسٹنٹ قراۃ العین کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ماہر امراض چشم ڈاکٹر بیربل گینانی کے قتل کے الزام میں قرۃ العین کو گزشتہ روز کراچی کے علاقے گارڈن سے حراست میں لے لیا گیا تھا ، تاہم اب انہیں باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

کراچی: مفتی عبدالقیوم کے قتل کی سپاری انٹیلی جنس ادارے کے افسر نے دی

سکھر پولیس کا کچے کے علاقے میں آپریشن ، ڈاکوؤں کی متعدد کمیں گاہیں تباہ

ملزمہ کو گارڈن تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقتول ڈاکٹر بیربل کے بھائی نے ان کی اسسٹنٹ قرۃ العین پر قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کراچی میں نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے آئی سرجن ڈاکٹر بیربل گینانی ہلاک جبکہ ان کی اسسٹنٹ لیڈی ڈاکٹر قراۃ العین کندھے پر گولی لگنے سے زخمی ہوگئی تھیں۔

نامعلوم حملہ آوروں نے کراچی کے علاقے گارڈن لیاری ایکسپریس وے پر گاڑی پر فائرنگ کی تھی ، جس کے نتیجے میں معروف ماہر امراض چشم ڈاکٹر بیربل ہلاک اور قرۃ العین نامی لیڈی ڈاکٹر زخمی ہوگئیں تھیں۔

ڈاکٹر بیربل گینانی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے سابق ڈائریکٹر تھے اور انہوں نے اسپینسر آئی اسپتال کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیئے تھے۔ وہ کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن میں ایک پرائیویٹ کلینک بھی چلاتے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کو گرفتار تو کرلیا ہے تاہم معلوم کرنے والی بات یہ ہے کہ اس قتل کے پیچھے کیا محرکات ہیں ، کیا لین دین کا معاملہ ہے یا پیشہ وارانہ مخاصمت ہے۔ تاہم اصل حقائق تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔

متعلقہ تحاریر