ریلوے پاکستان میں محفوظ سواری نہیں رہی

گھوٹکی میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی کے قریب ٹرین حادثے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

گھوٹکی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جارہی تھی۔ یہ حادثہ ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس کے درمیان پیش آیا ہے۔ ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر کر دوسرے ٹریک پر جا گریں اور مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس پٹڑی پر گری ہوئی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان ریلوے کو ایک کھرب 19 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان

حادثہ پیش آنے کے بعد مختلف اسٹیشنز پر دیگر ٹرینوں کو روک دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے۔ متعدد افراد تاحال بوگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں ریسکیو کرنے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

رواں برس مارچ میں روہڑی کے قریب کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس پٹڑی سے اتر گئی تھی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 30 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

جبکہ اس سے ایک ماہ قبل یعنی فروری میں روہڑی میں ہی کراچی سے لاہور جانے والی پاکستان ایکسپریس اور ایک مسافر بس کے درمیان تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اس سے قبل نومبر 2019 میں کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کو صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں آتشزدگی کے حادثے میں کم از کم 74 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں ٹرین حادثات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ شیخ رشید کے پاس ریلوے کی وزارت کے دوران پاکستان میں مختلف چھوٹے بڑے ٹرین حادثات پیش آئے اور ایک موقع پر شیخ رشید سے وزارت سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا تھا۔ اب وزیر ریلوے شیخ رشید نہیں بلکہ تحریک انصاف کے ہی اعظم سواتی ہیں لیکن حادثات کا سلسلہ جوں کا توں ہے۔

متعلقہ تحاریر