این اے 133 میں ووٹوں کی خریدوفروخت الیکشن کمیشن کا کارروائی کا فیصلہ

پی پی کے امیدوار اسلم گل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا

پانچ دسمبر شہر لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ضمنی انتخابات  کےلئے ووٹوں کی خرید وفروخت کے اسکینڈل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فرانزک رپورٹ پر کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا۔

لاہورکے  اين اے 133 ضمنی انتخاب ميں ووٹوں کی  خریداری کے الزام پر ریٹرننگ آفیسر نے دو افراد اسلم گڑا اور میاں طارق کو نوٹس جاری کر ديے ہیں، پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے احکامات جاری کيے ہيں۔

یہ بھی پڑھیے

این اے 133 کا ضمنی انتخاب، ووٹ خریدنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

این اے 133 کا ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی امیدواران ہائیکورٹ سے بھی ناکام

الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ  این اے 133 میں ووٹوں کی خرید وفروخت کے اسکینڈل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فرانزک رپورٹ پر خود کارروائی کرنے کا اعلان  کیا ہے رپورٹ صوبائی الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوائی جائے گی۔ واقع کی تمام تحقیقات ضروری نہیں ہے کہ پانچ دسمبر سے پہلے مکمل  کی جائے تحقیقات اس کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے  تاہم  مکمل تحقیق کے بعد ذمہ داران کےخلاف کارروائی ہو گی۔

گزشتہ روز ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے انتخابی امیدواران سے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے ملاقات کی، اہم ملاقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے بھی شرکت کی،  ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے ہدایت کی کہ امیدواران انتخابات سے پہلے اور پولنگ کے روز مکمل طور پر ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سیکیورٹی حکام ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔

واضح رہے کہ 2018 کے انتخابت میں حلقہ این اے 133 کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی اسمبلی ملک پرویز کامیاب ہوئے تھے  تاہم ان کے انتقال کےبعد نشست خالی ہوگئی تھی ، خالی نشست پر حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اُمیدوار جمشید اقبال چیمہ نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جو تیکنیکی وجوہات کی بنا پر مسترد کردیئے ہے جس کے باعث حکمران جماعت کا کوئی اُمیدوار میدان میں نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر