ایف بی آر نے پہلی بار انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت مقدمہ جیت لیا
خیبرپختونخوا کے شہری کے اکاؤنٹ میں ایک ارب سے زائد رقم تھی، ٹیکس صرف 1 لاکھ دیا، ملزم دیگر بینک اکاؤنٹس سے بھاری رقوم کی ٹرانزیکشنز کرتا تھا۔
ٹیکس چوری کا انوکھا کیس، خیبر پختونخوا کے حبیب اللہ کے بینک اکاؤنٹس کی کل رقم ایک ارب 9 کروڑ روپے تھی جبکہ اس نے ٹیکس سال 2015 میں صرف 1 لاکھ 92 ہزار 877 روپے ٹیکس ادا کیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ جیت لیا۔ یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا۔ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن نے ٹیکس قوانین کے تحت ابتدائی تحقیقات کیں۔
یہ بھی پڑھیے
عجب کرپشن کی غضب کہانی، محکمہ تعلیم کالجز کا مضحکہ خیز حکم
قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف
تحقیقات کے دوران ملزم کے 6 مزید بینک اکاؤنٹس کا پتہ چلا جس کے ذریعے بڑی ٹرانزیکشنز کی گئی تھیں۔ ملزم کے تمام بینک اکاؤنٹس کی کل رقم 2 ارب 9 کروڑ روپے تھی جبکہ اس نے سال 2015 میں صرف 1 لاکھ 92 ہزار 877 روپے ٹیکس ادا کیا۔
ملزم نے آمدن اور بینک اکاؤنٹس کو چھپایا اور ٹیکس اتھارٹیز کو غلط معلومات فراہم کیں۔ تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد منی لانڈرنگ کا علم ہوا جس کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
کورٹ کی اجازت کے بعد ملزم کے بینک اکاؤنٹس کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی شق 8 کے تحت ضبط کر لیا گیا ہے۔ ایکٹ کی شق 9 کے تحت تفتیش مکمل ہونے پر حتمی چالان پیش کیا گیا اور انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کی شق 203 کے تحت منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کی طرف سے کورٹ میں ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ اوررقم ضبط کرنے کی استدعا کی گئی۔ یہ ٹرائل 30 نومبر 2021 کو مکمل ہوا جس کے نتیجہ میں ملزم کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی شق 4 کے تحت دو سال کی قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اس کے علاوہ ملزم کو انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کی شق 192 اے کے تحت 1 سال کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد ہوا۔ عدالت نے جرم سے حاصل ہونے والی رقم 2090.4 ملین روپے بھی ضبط کرنے کے احکامات جاری کئے۔









