مسٹر پاکستان گلوبل محمد عمر اور مس پاکستان یونیورس عزم و ہمت کی اعلیٰ مثال

مسٹر پاکستان گلوبل 2022 محمد عمر نے کہا ہے انسان کو اس کی محنت کا صلہ اس کی نیک نیتی کے بنا پر ملتا ہے جبکہ مس پاکستان یونیورس 2022 سمن شاہ کا کہنا ہے پاکستان کے لیے کام کرنا میرا خواہش ہے۔

نیوز 360 کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مسٹر پاکستان گلوبل 2022 محمد عمر نے کہا کہ جب کسی کام کا آغاز کیا جاتا ہے تو شروعات میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اسی طرح مجھے بھی ماڈلنگ اور شوبز سے متعلق نہ معلوم اطلاعات کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں، سلیکشن کے بعد ہماری ٹریننگ کی گئی اس چھ مہینے کی ٹریننگ میں مس سمن شاہ نے اس حوالے سے بہت کچھ سکھایا، اس سفر میں نیک نیتی سے محنت کا صلہ یہ ہے کہ آج میں مسٹر پاکستان گلوبل 2022 ہوں۔ خوشی ہے کہ مجھے بیرون ممالک پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا، ابھی مجھے مختلف شوبز انڈسٹری ڈرامہ فلم میں کام کرنے کا موقع ملا تو ضرور کرو گا۔

یہ بھی پڑھیے

بڑھتی عمر کو قبول کرتی ہوں، عدم تحفظ کا شکار نہیں، ملائکہ اروڑا

اداکار گوہر رشید نے گلوکاری کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا

دوسری طرف مس پاکستان یونیورس 2022 سمن شاہ نے نیوز 360 سے گفتگو میں کہا کہ 2008 میں مس پاکستان اور مس پاکستان یونیورس کا ٹائٹل میرے پاس رہا جس کے بعد مجھے پاکستان کے بڑے ٹائٹل کے ساتھ مختلف شعبوں میں کام کرنے کا موقع بھی ملا، 25 سال یو ایس میں رہی ہوں اور سرٹیفائیڈ یو ایس لائف کوچ ہونے کی حیثیت سے ان ٹائٹلز کیلئے خواہشمند امیدواروں کی ٹریننگ کروا رہی ہوں۔ جس وقت میں نے وولڈ ٹائٹل اپنے نام کیا تب گائیڈ کرنے والا یہاں کوئی نہیں تھا جیسے بیرون ملک میں ہوتا ہے اس لئے یہاں وولڈ ٹائٹلز کے خواہشمند لڑکے لڑکیوں کی ٹریننگ پر کام کرنا شروع کیا۔ اس سے قبل مختلف سالوں میں بیوٹی پیجن میں بطور جج بننے کا بھی موقع مل چکا ہے۔ اس لئے مجھے معلوم ہے کہ کس طرح اپنے بیوٹی ٹائٹل کے امیدواروں کو نیشنل اور انٹرنیشنل لیول کے طور پر تیار کرنا ہے، جیسے محمد عمر ویسے تو ایروناٹیکل انجینئر ہے مستقبل کے سیاستدان بھی ہوسکتے ہیں ویسے تو محمد عمر کا آبائی تعلق ساہیوال سے ہیں مگر یہ اپنی فیملی کے ساتھ زیادہ وقت یوکے میں رہائش پزیر رہے۔

ایک سوال کے جواب میں سمن شاہ نے کہا کہ بیوٹی ٹائٹل کے خواہشمند لوگوں میں سب سے پہلے میں یہ دیکھتی ہوں کہ یہ کیسا انسان ہے اور اپنے ملک کے ساتھ کتنی محبت کرتا ہے باقی امیدوار کی محنت پر انحصار کرتے ہیں

سمن شاہ نے مزید کہا کہ ریسکیو پاکستان کے نام سے سٹریٹ کڈز کیلئے کام کر رہی ہوں جس میں غریب بچوں کی تعلیم ان کی فلاح کیلئے بھی کام کر رہی ہوں، اس سال بھی پھر مس پاکستان یونیورس کا ٹائٹل جیتا ہے میں اس ٹائٹل کے ساتھ پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتی ہوں، خاص طور پر خواتین اور خواجہ سراؤں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کام کرنا چاہتی ہوں، جبکہ بے زبان جانوروں کے حقوق اور انکی حفاظت کیلئے کام کرنا چاہتی ہوں۔ لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ جانوروں کی حفاظت اور ان سے محبت کرنے کا درس تو ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔

متعلقہ تحاریر