لاہور شاپنگ پلازہ پیس میں لگنے والی آگ پر10 گھنٹے بعد قابو پالیا گیا
چار منزلوں پر مشتمل پیس شاپنگ پلازہ میں موجود 400 سے زائد دوکانیں آتشزدگی کے باعث مکمل طور پر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع شاپنگ پلازہ پیس میں لگنے والی آگ پر فائر فائٹرز نے کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پالیا۔
تفصیلات کے مطابق گلبرگ کے علاقے میں واقع کپڑوں کے شاپنگ مال "پیس” کی چار منزلہ عمارت کو رات گئے آگ لگی تھی جس نے دیکھتے دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپٹ میں لے لیا تھا۔ آتش زدگی کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار اور فائر بریگیڈ جائے وقوعہ پر پہنچے اور آگ بجھانے کا کام شروع کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
اشیائے ضروریہ کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے، اے ڈی سی پاکپتن
چھ سال بعد صدر نے لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو کا افتتاح کردیا
فائر بریگیڈ کی 25 گاڑیاں اور 60 کارکنان نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا ، آگ پر قابو تقریباً دس گھنٹوں بعد پایا گیا ، فی الحال کولنگ کا عمل جاری ہے۔
ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ شاپنگ مال میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، 60 ریسکیو کارکنان کی جانب سے آپریشن میں حصہ لیا گیا،20 گاڑیوں کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا۔ واسا ایل ڈی اے کی جانب سے آپریشن کے دوران پانی کے ٹینک مہیا کیے گئے۔ ریسکیو 1122 کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ فائر کنٹرول نے بھی حصہ لیا جبکہ ڈی جی ریسکیو کی ہدایت پر ملحقہ عمارتوں کو بھی چیک کیا جا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر عمر شیر چٹھہ نے اپنی ٹویٹ میں عوام کو آگاہ کیا کہ آگ پر اب تک قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا: نجی شاپنگ مال میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ کے عملے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ خطرناک طریقے سے آگ پر قابو پالیا۔ میں نے خود آگ بجھانے کے عمل کی مسلسل نگرانی کی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آگ اے گریڈ کی ہے اور آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے اس کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پولیس نے سیکیورٹی انچارج پیس کو گرفتار کرلیا۔ ڈی سی نے مزید بتایا کہ پلازہ میں 400 سے زائد دکانیں اور متعدد کاؤنٹرز ہیں۔
دوسری طرف پیس پلازہ میں آگ لگنے پر دکانوں کے مالک اور کرایہ دار تاجروں نے سڑک کے دونوں اطراف بیٹھ کر احتجاج کیا ۔ تاجر اپنے کاروبار کی تباہی کا ذمہ دار پلازے کے مالک سابق گورنر سلمان تاثیر کی فیملی کو ٹھراتے رہے۔
نیوز 360 سے گفتگو میں تاجروں کا کہنا تھا کہ اس پلازے کے ہر فلور میں بریکر سسٹم ہے پلازہ جب بند ہوتا ہے تمام بریکر بھی بند کر دیے جاتا ہے 11 بجے تک سب کچھ ٹھیک تھا ، اچانک رات گئے 2 بجے آگ کیسے لگ گئی جبکہ شارٹ سرکٹ جیسی کوئی چیز بھی نہیں ہو سکتی، دو ماہ سے پلازے کے مالک ہمیں دکانیں چھوڑنے کا کہتے رہے ہم ایک دم اپنا کاروبار کیسے ختم کر سکتے ہیں لوگوں سے ڈاؤن پیمنٹ پر کام کیا جاتا ہے چار سو سے زائد دکانوں کا نقصان ہو چکا ہے اس وقت نہ حکومت نہ پلازے مالکان یا انتظامیہ ہمارے پاس آئے ہیں ہمارے دکھ میں ہمیں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے ، ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے ہمارے دکھ کا مداوا کیا جائے یہاں دکان مالک ہی نہیں دکانوں کے کرایے دار تاجر اور دیہاری دار چھوٹے کاؤنٹر لگانے والے افراد بھی سڑک پر آگئے ہیں۔









