انٹر بینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین 181 روپے 25 پیسے پر بند
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے تو انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہو جائے گی۔
ملک میں لمحہ با لمحہ تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال کے اثرات معیشت پر واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں، ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 181 روپے 25 پیسے پر بند ہوا۔
کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹر بینک میں ڈالر 68 پیسے مزید مہنگا ہو کر 181 روپے 25 پیسے پر بند ہوا جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی کی معاشی کامیابیاں، ٹیکسز اور ہدف سے زیادہ محصولات میں اضافہ
لوٹا نہیں کہ کسی دوسری پارٹی میں چلا جاؤں، وزیر خزانہ شوکت ترین
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 80 پیسے مزید مہنگا ہوکر 182 روپے 50 پیسے پر بند ہوا۔
رواں مالی سال کے شروع ہونے اب تک ڈالر کی قیمت میں 23.71 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر معاشی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو نہ روکا گیا تو ایکسپورٹرز سرمایہ کاری سے رک جائیں گے ، حکومت کو بروقت اقدامات کرنے ہوں گے۔
ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کو اپنی خریداریوں کی ادائیگیاں تین ماہ بعد کرنا ہوتی ہیں ، فرض کرتے ہیں جو ڈالر رواں مال سال کے یکم جولائی کو 159 کا وہ نومبر میں 174 روپے کا ہوگیا ، اور نومبر سے اب ڈالر بڑھتا ہوا 181 روپے کا ہو گیا ہے ۔ مطلب یہ کہ جو ادائیگی 174 روپے میں کرنی تھی اب وہ ادائیگی 181 روپے میں کرنا پڑے گی۔
ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر فیکٹریوں کو اپنی پروڈکشن کی قیمت کو کنٹرول کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جو خام مال 174 روپے میں خریدا گیا تھا اب اس کی ادائیگی 181 روپے میں کرنا پڑے گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے تو انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہو جائے گی اور بےروز گاری کو روکنا مشکل ترین ہو جائے گا۔









