پتوکی: شادی میں تشددسے پاپڑ فروش ہلاک، باراتی لاش کے پاس کھانا کھاتے رہے

باراتیوں نے جیب کترا ہونے کے شبہے میں اشرف کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا، واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس، ہال کے منیجر سمیت12 ملزمان گرفتار

پنجاب کے شہر پتوکی میں شادی کی تقریب کے دوران باراتیوں نے  ہال میں  موجود پاپڑ فروش کو تلخ کلامی کے بعد تشدد کا نشانہ بناکر قتل کردیا۔

پولیس  کے مطابق باراتیوں نے پاپڑ فروش اشرف سلطان کو جیب کترا قرار دیکر اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے اسکی موت واقع ہوگئی۔

 یہ بھی پڑھیے

ایم کیوایم کا مبینہ سابق ٹارگٹ کلر اجمل پہاڑی منظر عام پر آگیا

کوئٹہ: پانچ سالہ بچے پر تشدد کرنے والے دو پولیس اہلکار گرفتار

پولیس کے مطابق پاپڑ فروش اشرف کی لاش شادی ہال میں سرعام لاوارث حالت میں پڑی رہی ۔لاش پر مکھیاں بھنبھناتی رہیں اور لوگ مزے سے بارات کا کھانا کھاتے رہےاور کسی  نے  ایمبولینس بلانے یا لاش اسپتال منتقل کرنے  کی زحمت نہیں کی۔

پولیس کے مطابق مزدور کی لاش شادی ہال میں پڑی رہی اور لوگ کھانا کھانے میں مصروف رہے۔ پولیس نے مقتول کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا۔

واقعے کے بعد پولیس فوری طور پر حرکت میں آئی  اور مقدمہ درج کر کےہال کے منیجر سمیت 12 افراد کو حراست میں لے لیا ۔ڈی پی او قصور کے مطابق پولیس کی ٹیموں نے رات گئے کنگن پور، پتوکی اور سرائے مغل میں کارروائی کرکے ان افراد کو حراست میں لیا ہے۔

واقعے کی ایف آئی آر محمد اشرف عرف سلطان کے بہنوئی پرویز کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ پرویز کے مطابق شادی ہال کے باہر محمد اشرف پاپڑ فروخت کر رہا تھا کہ تکرار ہوگئی اور وہاں موقعے پر موجود افراد نے ان پر تشدد شروع کر دیا اور پھر انھیں ہال کے اندر لے گئے۔

بی بی سی کے مطابق محنت کش محمد اشرف کا تعلق تحصیل چونیاں کے علاقے جاگوالہ سے تھا۔پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں ڈاکٹرز نے متوفی کے جسم پر تشدد کی تصدیق نہیں کی تاہم واقعے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق جائے واردات سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، حتمی رپورٹ آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے  لیا۔ آئی جی پنجاب کے مطابق ڈی پی او قصور واقعے کی تفتیش اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مزید افراد کو شامل تفتیش کرنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔

متعلقہ تحاریر