حکومت کا آڈٹ کی مدت چھ کے بجائے تین سال کرنے پر غور
چیئرمین ایف بی آر نے کہا ہے ہم ریئل ٹائم ریفنڈ سسٹم کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ رقم کی واپسی کے نظام میں اصلاح کی جاسکے۔
چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے ایف پی سی سی آئی کے آڈٹ کی مدت کو موجودہ چھ سال سے کم کر کے تین سال کرنے کے مطالبے پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال شیخ کا کہنا ہے 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس اور 17 فیصد سیلز ٹیکس اقتصادی ترقی، صنعتکاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مانع ہیں ، ان ٹیکسز کی شرح کو بتدریج نیچے لانے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کے فیڈریشن ہاؤس کے تفصیلی دورے کے مو قع پر کیا۔ عرفان اقبال شیخ نے پاکستان کی صنعتی اور تاجربرادری کے تحفظات اور ان کی شکایات وضاحت کے ساتھ پیش کیں۔ اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران بھی انکے ہمراہ تھے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی کی معاشی کامیابیاں، ٹیکسز اور ہدف سے زیادہ محصولات میں اضافہ
ریکوڈک تنازعہ حل، حکومت اور بیرک گولڈ کے درمیان معاہدہ طے پاگیا
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ اور غیر مصدقہ ٹیکس نوٹس ، بدانتظامی اور ٹیکس مشینری میں شامل بدعنوان عناصر؛ خریدکنند گان کی شناختی کارڈ کی کاپی کی شرط؛ کئی سالوں سے رکے ہوئے ریفنڈز کی واپسی کے کیسز؛ ڈبل ٹیکسیشن؛ سابقہ فاٹا اور پاٹا علاقوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال؛ کارپوریٹ، سیلز اور ودہولڈنگ ٹیکس کی زیادہ شرحیں؛ FBR کے ساتھ POS کا لازمی انضمام؛ انکم ٹیکس سلیب کی کثرت اور ایس آر او کلچر ٹیکس کے نظام میں اصلاحات اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے صنعتی ترقی کی عدم موجودگی میں ترقی نہیں کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے وفاقی حکومت کے حال ہی میں اعلان کردہ صنعتی مراعات کے پیکج کو بھی سراہا۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر انجینئر ایم اے جبار نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ٹیکس مشینری کے بے جا نوٹس مینوفیکچرنگ کے طور اطوار کو ختم کرنا ہوگا؛ کیونکہ یہ نئے ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری ریگولیٹری مداخلتوں سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو ٹیکس سسٹم میں رجسٹر کروانے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے ایف پی سی سی آئی کے آڈٹ کی مدت کو موجودہ چھ سال سے کم کر کے تین سال کرنے کے مطالبے پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے حاضرین کویہ بھی بتایا کہ ایف بی آر نے کورونا کی وبا کے دوران پیدا ہونے والے مشکل معاشی حالات کے باوجود بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے۔
انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایف بی آر جلد ہی ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب 12 فیصد تک حاصل کر نا چاہتا ہے۔
ریفنڈز کے سوال پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم ریئل ٹائم ریفنڈ سسٹم کی طرف بڑھ رہے ہیں؛جہاں ہمارا مقصد رقم کی واپسی کے نظام میں اس طرح سے اصلاح کرنا ہے کہ اگر ویریفکیشن ہو چکی ہو اور کوئی واجبات باقی نہ ہوں تو ریفنڈز فوری طور پر ادا کر دیئے جائیں۔
ڈاکٹر اشفاق احمد نے تاجر برادری کو تجویز دی کہ وہ ایف پی سی سی آئی کے اعلیٰ ترین نما ئندہ پلیٹ فارم سے بجٹ سازی کی مشق میں شامل ہونے کے لیے ہر سیکٹر کے لیے مخصوص سفارشات تیار کریں۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں سب ٹھیک نہیں ہے اور بڑی اصلاحات اور اسٹڈیز پر کام کیا جارہا ہے۔









