ایئر بلیو کا ڈاؤن سنڈروم کا شکار بچے کو سفر کی سہولت دینے سے انکار

آپ کا بیٹا ڈاؤن سنڈروم  کا شکار ہے جو جہاز میں دوسرے مسافروں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے

کراچی کی رہائشی ثمینہ محمود  نے نجی کمپنی ایئر بلو کی جانب سے اپنے (ڈاؤن سنڈروم ) ذہنی معذور بچے کے ساتھ بدترین امتیازی سلوک  پر سخت تنقید کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا ہے، انھوں نے تمام افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی بچوں کے ساتھ  حسن اخلاق کا مظاہرہ کریں کیونکہ ان کے امتیازی سلوک سے بچوں کے والدین کی دل آزاری ہوتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی رہائشی ثمینہ محمود نے چند روز قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر نجی کمپنی ایئر بلو انتظامیہ کی جانب سے اپنے ساتھ پیش آنے والے نا خوشگوار  واقع کی تفصیل شیئر کی ، انھوں نے بتایا کہ وہ پشاور سے کراچی کے لیے ایئر بلیو کی پرواز (PA 603) میں  اپنے 13 سالہ بیٹے (ڈاؤن سنڈروم ) کا شکار ہے کے ساتھ سوار ہونے کے لئے پہنچیں تو  عملے کے ایک شخص نے ان کے بیٹے کو (جو چہرے سے پہچانا جاسکتا ہے ) دیکھتے ہیں جہازمیں سوار ہونے سےیہ کہتے ہوئے روک دیا کہ آپ کا بیٹا ڈاؤن سنڈروم  کا شکار ہے جو جہاز میں دوسرے مسافروں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ثنا جاوید کوبدتمیزی مہنگی پڑگئی، رنگ رسیا نے معاہدہ منسوخ کردیا

محسن بیگ کے اخبار کے ایڈیٹر کی سینئر صحافی مطیع اللہ  جان سے بدتمیزی

انھوں نے لکھا کہ میں  نے عملے کے ملازم کو یقین دہانی کرائی کے یہ بچہ 15 گھنٹوں پر مشتمل سفرکرچکا ہے اور ایسی کسی سرگرمی  میں ملوث نہیں رہا ہے  جو مسافروں کے لئے پریشانی کا باعث بنے لیکن اس شخص نے میری بات سننے سے انکار کردیا حتیٰ کہ انتہائی بدتہذہبی سے  اعلیٰ افسر کو مطلع کیا ، اور اعلیٰ افسر نے مجھے صاف کہا کہ مجھے اپنے بچے کو یہیں ہوائی اڈے پر چھوڑنا پڑے گا وہ اسے جہاز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

انھوں نے  اعلیٰ حکام سے  اپیل کی ہے  وہ ایئر بلو  انتظامیہ کو ان کی اس بدتہذیبی  پر جواب طلب کریں اور عوام سے اپیل کی ہے  ڈاؤن سنڈروم کا شکار بچوں کے ساتھ  حسن اخلاق سے پیش آئیں کیونکہ یہ بچے انتہائی بے ضرر ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ کئے جانے والے ہتک آمیز سلوک سے والدین کی دل آزاری سے بچا جاسکے ۔

متعلقہ تحاریر