اجلاس روکنے کیلیے پنجاب اسمبلی کو خاردار تاریں لگا کر سیل کردیا گیا
ترجمان پنجاب اسملبی کا کہنا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس سولہ اپریل کو ہی ہوگا ، آج طلب کئے جانے والے اجلاس کو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس بلانے کے معاملے پر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر آمنے سامنے آ گئے ، پنجاب اسمبلی کو خاردار آہنی تاروں سے ڈھانپ دیا گیا معمول سے چار گنا زیادہ سیکورٹی اور پولیس تعنیات، چاروں اطراف کرفیو ، داخلی اور خارجی راستے کو بند کردیا گیا۔
پنجاب میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے درمیان اجلاس بلانے یا نہ بلانے پر اختلاف شدت اختیار کر گیا۔ اجلاس 6 اپریل سے 16 اپریل تک ملتوی کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ میں یقین دھانی پر ڈپٹی اسپیکر نے آج ہی اجلاس بلالیا لیکن اسپیکر پرویز الہی نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہونے دیا۔
یہ بھی پڑھیے
ریحام خان نے عمران خان کو کس ولن سے تشبیہ دے دی؟
اس حوالے سے کنفیوژن برقرار ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب ہو گا۔
ترجمان پنجاب اسملبی کا کہنا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس سولہ اپریل کو ہی ہوگا ، آج طلب کئے جانے والے اجلاس کو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔
دوسری جانب ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری نے کہا ہے کہ جب تک پنجاب اسمبلی سے نوٹی فکیشن نہیں ہوگا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا، اجلاس کے لیے گزٹ نوٹی فکیشن کا جاری ہونا لازمی ہے۔
سردار دوست محمد مزاری کا کہنا ہے اسمبلی سیکرٹریٹ نوٹی فکیشن کرنے میں غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کررہا ہے. جو طاقتیں ایسا کررہی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ میں قانون کے مطابق کام کروں گا
انہوں نے کہا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی غیر سنجیدگی افسوسناک ہے، اس طرح کے اقدام سے سب کا نقصان ہوگا، چوہدری پرویز الہٰی خود وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہیں اسپیکر کے اختیارات میرے پاس ہیں، میرے دفتر کے عملے کو بھی پریشرائز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی جانب سے رات گئے اجلاس طلب کیا گیا تھا، آج شام ساڈھے سات بجے اجلاس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔









