رحمتوں اور برکتوں کے مہینے رمضان المبارک میں اشیائے خرونوش کی قیمتیں آسمان پر

رحمتوں ، برکتوں اور بے پناہ عظمتوں کا حامل رمضان المبارک کا آغاز ہوچکا ہے، اس ماہ مقدس میں روزوں کی وجہ سے اشیائے خرونوش کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہر خاص و عام کی کوشش ہوتی ہے وہ اپنے دسترخوان کو بہتر سے بہتر بنائیں۔ اس لئے اس پاکیزہ مہینے میں پوری دنیا میں اشیائے خرونوش اور باالخصوص پھل سبزیوں کی قیمتوں میں کمی کردی جاتی ہے مگر ہمارے پاکستان میں یہ رواج کم یہاں منافع خور پہلے قیمتیں بڑھ دیتے ہیں جب رمضان کا مہینہ سایہ افگن ہوتا ہے تو عارضی قیمتوں میں کمی کر دیتے ہیں۔ ویسے یہی ہمارے لوگوں کا معمول ہے ثواب کمانے کا بھی مگر اس وقت پاکستان کے شہروں میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں مختلف بازاروں میں مختلف اور معیار کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہے۔

اس حوالے سے نیوز 360 صوبائی دارالحکومت لاہور میں ان قیمتوں کے حوالے سے رپورٹ مرتب کی ہے نامہ نگار دانیال راٹھور نے شہر لاہور کے رمضان بازاروں ، یوٹیلیٹی سٹوروں اور اوپن مارکیٹ میں چیزوں کی قیمتوں کے متعلق سروے کیا اور لوگوں سے بھی اس حوالے سے بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رمضان المبارک ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا مہینہ

مسٹر پاکستان گلوبل محمد عمر اور مس پاکستان یونیورس عزم و ہمت کی اعلیٰ مثال

تفصیلات کے مطابق اس وقت شہر لاہور میں اوپن مارکیٹ ، رمضان سستا بازار اور یوٹیلیٹی سٹور کی قیمتوں میں واضح فرق ہے۔ روزمرہ کی چیزوں کے ریٹس بھی مختلف ہے اور ان کی مقدار کے حساب سے فی کس کو چیزیں دی جاتی ہے جیسے اوپن مارکیٹ میں جو چاہے جتنا چاہے مہنگے داموں میں حاصل کرسکتے ہیں۔

یوٹیلیٹی اسٹور میں سبسڈی کیلئے شناختی کارڈ کی کاپی کی ضرورت ہوگی جس سے ایک پاکستانی شہری کو 5 کلو گھی قیمت 260 روپے فی کلو، دو کلو آئل قیمت تقریباً 400 روپے فی کلو، چینی پانچ کلو قیمت 85 روپے فی کلو، آٹا کے بیس کلو والے دو تھیلے مل سکتے ہیں فی تھیلا قیمت 950 روپے اور اسی طرح مختلف دالوں اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں 10 سے پچاس روپے تک کی سبسڈی دی گئی ہے۔

وہی آٹا اوپن مارکیٹ میں 65 سے 85 روپے کلو فروخت ہورہا ہے جبکہ بیس کلو آٹا کا تھیلا 1600 تک فروخت ہورہا ہے چینی 100 سے 105 تک گھی 450 سے 490 فی کلو تک بدرجہ بندی ترتیب سمیت دیگر اشیاء معمول کی مہنگی قیمتوں پر فروخت ہورہی ہے جبکہ رمضان بازاروں حکومت کی جانب سے سستا رمضان سٹالز لگائے گئے جہاں رش کے باعث لائنوں میں اشیاء خوردونوش حاصل کر سکتے ہیں۔ جیسے ایک شہری کو ایک دس کلو کا آٹے کا تھیلا 450 روپے میں ملے گا۔ ایک شہری کو 80 روپے فی کلو کے حساب سے صرف دو کلو چینی ملے گی، ایک شہری کو لائنوں میں لگ کر 20 روپے کلو کے حساب سے ایک کلو پیاز ملے گا، 20 روپے فی کلو آلو کے حساب سے اڑھائی کلو آلو ملے گے، ایک شہری کو صرف آدھا کلو ٹماٹر 60 روپے میں ملے گے ، اسی طرح کجھور ایک کلو پیکٹ 174 روپے، ایک کلو دال چنا 103 ، ایک کلو بیسن 102 روپے سمیت کیلا سسیب اور دیگر چند پھل مارکیٹ سے 20 سے 30 روپے رعایت پر سستا رمضان بازار کے سٹالز سے ایک لمبی کیثر قطار عبور کرنے کے بعد ملے گا۔

شہریوں نے نیوز 360 سے گفتگو میں میلے جیلے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ماہ مقدس کے آغاز ہوتے ہی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے لوگوں کو ریلیف دینے کی بجائے منافع خور دیہاڑیاں لگانے میں لگ جاتے ہیں پھل سبزیاں اور دیگر اشیاء خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ رمضان بازاروں اور یوٹیلیٹی سٹوروں پر ملنے والی سبسڈی پر بات کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ لمبی لمبی لائنوں میں گھنٹوں انتظار کے بعد یوٹیلیٹی سٹور سے شناختی کارڈ کی کاپی پر سامان ملتا ہے جبکہ ایک سے دوسری دفعہ سامان لینے جائے تو وہی سامان مہنگے داموں میں ملتا ہے اگلی دفعہ وہ شناختی کارڈ کارآمد نہیں ہوتا اسی طرح رمضان بازاروں میں عوام کو ذلیل کیا جاتا ہے ایک ایک گھنٹہ کھڑا ہوکر ایک کلو پیاز دو کلو چینی ملتی ہے حکومت کو چاہیے یا تو کاؤنٹر بڑھا دیں یا پھر چیزوں کی مقدار تاکہ ایک شہری کو حقیقی معنوں میں ریلیف تو ملیں۔

متعلقہ تحاریر