الیکشن کمیشن نے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے آپ کی کابینہ قرارداد پاس کر دے کہ بلوچستان میں الیکشن ہی نہ ہوں تو کیا ایسا ہوگا؟ آئین یا قانون میں اس چیزکی کوئی گنجائش نہیں۔

الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی۔سلیکشن کمیشن کا کہنا تھاکہ کابینہ قرارداد پاس کرے کہ بلوچستان میں الیکشن ہی نہ ہوں تو کیا ایسا ہوگا۔اس کی آئین و قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔
الیکشن کمیشن میں حکومت بلوچستان کی جانب سے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی تھی ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی نے منحرف ایم این ایز کی تاحیات نااہلی کے لیے درخواست دائر کردی
ترجمان پاک فوج کا بیان جمہوریت کیلیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے،بلاول بھٹو
بلوچستان کے چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا الیکشن کمیشن کو بتایا کہ وہ شارٹ نوٹس ملنے پر الیکشن کمیشن پہنچے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد پاس کی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخاب میں تاخیرنہیں ہو سکتی۔
چیف سیکرٹری بلوچستان نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے اس پر ریمارکس دیئے کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخاب میں تاخیرنہیں ہو سکتی۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی جبکہ بلوچستان حکومت کے وکیل کا وقف تھا کہ بلوچستان کی آبادی بڑھ گئی ہے، جس کے سبب دوبارہ حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی اپیل کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان اسمبلی کی منظورکردہ قرارداد کی کوئی اہمیت نہیں، صوبے میں کل سے کاغذات نامزدگی کا عمل شروع ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ بلدیاتی انتخابات ایک بار ہی ہوں گے، پہلے ہی تمام صوبوں میں الیکشن تاخیر کا شکار ہوچکے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مردم شماری کا نوٹی فکیشن بہت ضروری تھا،آج کل بھی بہت کنفیوژن پھیلائی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئین و قانون کے تحت ہی انتخابات کراتا ہے، انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی آئینی یا قانونی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔
الیکشن کمیشن نے دریافت کیا کہ بتایا جائے کس آئین و قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات ملتوی کئے جائیں؟ سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمی داری ہے۔
چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ الیکشن کمیشن اپنا فیصلہ واپس لے، اگرصوبائی حکومت نے بہانے بنائے تو ہم سپریم کورٹ کوبتادیں گے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات انعقاد میں تعاون نہیں کر رہی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیا گیا جس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ امن وامان کے مسئلہ کی فکرنہ کریں، ہم اداروں سے رابطے میں ہیں، بلدیاتی انتخابات سے متعلق صوبائی حکومت سے 15 دن مشاورت رہی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ آپ کی کابینہ قرارداد پاس کر دے کہ بلوچستان میں الیکشن ہی نہ ہوں تو کیا ایسا ہوگا؟ آئین یا قانون میں اس چیزکی کوئی گنجائش نہیں۔









