انڈیا میں زندے خاموش مگر مردے کرونا کی منہ بولتی تصویر

انڈین صحافی برکھا دت نے سوال کیا ہے کہ حکومت دریا کے کنارے نیم گلی ہوئی لاشوں کی طرف آنکھیں کیوں بند کر رہی ہے؟

انڈیا کی سینیئر صحافی برکھا دت نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ کرونا کی وباء کی دوسری لہر کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کے ساتھ ملک اور اس کی آبادی کس طرح کا برتاؤ کر رہی ہے۔

انڈین صحافی برکھا دت مختلف شہروں میں گئیں اور نامعلوم افراد کی لاشوں کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی۔ برکھا دت نے اپنی ٹوئٹ میں سوال کیا ہے کہ حکومت دریا کے کنارے نیم گلی ہوئی لاشوں کی طرف کیوں آنکھیں موند رہی ہے؟

یہ بھی پڑھیے

بی جے پی رہنما نے گاؤ موتر کو کرونا کا علاج قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ ہم انڈیا کے دیہی علاقوں میں کرونا کے باعث مرنے والے افراد کو کیوں نہیں گِن رہے ہیں؟

برکھا دت نے ریاست واراناسی کے ایک گاؤں کا دورہ کیا اور وہاں کے رہائشیوں سے بات چیت کی۔ ایک شہری نے بتایا کہ ندی میں نیم سڑی ہوئی لاشیں تیر رہی تھیں جنہیں بعد میں مشینری کی مدد سے مٹی میں دفن کیا گیا۔ جب ان لاشوں کو ندی کنارے لایا گیا تھا تو یہ بہت بری حالت میں تھیں۔

ویڈیو میں متعدد کھلی ہوئی قبریں اور بےشمار ان گنت لاشیں بھی دکھائی گئیں ہیں۔

مذکورہ گاؤں کے علاوہ برکھا دت نے پریاگراج کا بھی دورہ کیا جہاں 3 ندیوں کے ملنے کے مقام (سنگم) پر لاشوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ انہوں نے ایک ہندو عالم سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ روزانہ تقریباً 70 سے 80 لاشیں ندی پر نمودار ہوتی ہیں اور ان کے اہل خانہ کا کوئی پتہ نہیں ملتا ہے۔ ان لاشوں کو آخری رسومات ادا کیے بغیر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

برکھا دت کے ساتھ ہی ہندو عالم کا بھی یہ موقف تھا کہ انڈین حکومت ساحل پر پڑی لاشوں کا نوٹس نہیں لے رہی ہے اور انہیں گنتی میں بھی شمار نہیں کیا جارہا ہے۔

اس وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے ہندو عالم نے بتایا کہ انڈیا میں زیادہ تر لوگ کرونا کی وباء کے سبب اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرنے سے خوفزدہ ہیں۔

اس کے علاوہ وبائی صورتحال کے دوران قبرستان کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کو ندی میں پھینک رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر