پاکستان کی کرونا ویکسین ’پاک ویک‘ مارکیٹ میں آنے کو تیار

نیشنل کنٹرول لیب فار بائیولوجیکل ڈریپ سے منظوری کے بعد پاک ویک ملک بھر میں دستیاب ہوگی۔

کرونا کی وباء کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے ’پاک ویک‘ کے نام سے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرلی ہے۔ وفاقی وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین استعمال کے لیے رواں ہفتے مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وفاقی وزارت صحت نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو اس حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔ پاکستان میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین پاک ویک کے نام سے دستیاب ہوگی۔ قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) میں تیار شدہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین پیکنگ کے مراحل میں ہے۔ یہ ویکسین پاکستان اور چینی کے بین الاقوامی ادارے کین سائینو نے مشترکہ کاوشوں سے تیار کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دوران آپریشن اے سی بند ہونے سے ڈاکٹر بےہوش

قومی ادارہ برائے صحت کے ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں پاک ویک کی 1 لاکھ خوراکیں تیار کی گئی ہیں جبکہ این آئی ایچ کی کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی ماہانہ پیداواری صلاحیت 30 لاکھ خوراکیں ہیں۔ ابتدائی طور پر پاک ویک چینی ماہرین کی ٹیم کی زیر نگرانی پاکستانی ماہرین نے تیار کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ویکسین کے لیے خام مال چینی ادارے نے فراہم کیا ہے جبکہ ویکسین کی دوسری کھیپ پاکستانی ماہرین تیار کریں گے۔ این آئی ایچ کے کوالٹی کنٹرول ڈویژن میں ویکسین کی جانچ کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہے جن کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ ویکسین محفوظ اور موثر پائی گئی ہے۔

پاک ویک کے استعمال کی حتمی منظوری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کنٹرول لیب دے گی۔ این آئی ایچ نے ڈریپ سے اجازت نامے کے لیے درخواست بھی تیار کرلی ہے جسے 48 گھنٹوں میں جمع کرانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل کنٹرول لیب فار بائیولوجیکل ڈریپ ویکسین کی جانچ کرے گی اور ڈریپ سے منظوری ملنے پر ویکسین ملک بھر میں استعمال ہوسکے گی۔

ادھر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں لکھا ہے کہ چینی کمپنی کین سائینو کارپوریشن کے اشتراک سے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے پر قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کی ٹیم اور پاکستانی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔ مصنوع ایک سخت کوالٹی اشورنس (کیو آئی) جانچ سے گزری ہے۔ ویکسین کے فراہمی میں یہ ایک اہم قدم ہے۔

متعلقہ تحاریر