راجن پور میں پولیو ورکر فرض کی ادائیگی کے لیے درخت پر چڑھ گیا

پولیو ورکر اور بچے کے والد نے اسے درخت سے نیچے اتارا اور پولیو کے قطرے پلا دیئے۔

پولیو کی بیماری کو پاکستان سے ختم کرنے کے لیے حکومت اور پولیو ٹیم کے کارکنان بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال راجن پور میں دیکھنے میں آئی جہاں پولیو ورکر بچے کو قطرے پلانے کے لیے درخت پر چڑھ گیا۔

پولیو ایک ایسی موذی بیماری ہے جو اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر ٹانگوں اور جسم کے دیگر اعضاء کے پٹھوں میں کمزوری پیدا کردیتی ہے اور یہ زندگی بھر کے لیے معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا علاج نہیں ہے مگر ویکسین کی مدد سے اس بیماری سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

ایک طرف متعدد والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر خوفزدہ رہتے ہیں تو دوسری جانب کچھ بچوں کے ذہنوں میں بھی پولیو کے قطرے پینے کا خوف طاری رہتا ہے۔ بعض اوقات اس خوف کے باعث بچے درخت پر بھی چڑھ جاتے ہیں۔ تازہ واقعہ راجن پور کی بستی جت میں پیش آیا جہاں ایک بچہ پولیو ورکر کو دیکھ کر درخت پر چڑھ گیا اور قطرے پینے سے مسلسل انکار کرتا رہا۔ پولیو ورکر نے بھی ہار نہ مانی اور بچے کے پیچھے پیچھے خود بھی درخت پر چڑھ گیا۔ پولیو ورکر نے بچے کو منانے کی بھرپور کوشش کی جس کے بعد بچے کے والد نے آکر اسے درخت سے نیچے اتارا اور بچے کو پولیو کے قطرے پلا دیئے۔

یہ بھی پڑھیے

بچے کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے کارکن درخت پر چڑھ گیا

اس سے قبل خیبرپختونخوا میں پولیو ورکر بچے کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے درخت پر چڑھ گیا تھا جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ ٹوئٹر صارفین نے پولیو ورکر کی محنت اور لگن کی داد بھی دی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پولیو مہم کا آغاز 1994 میں ہوا تھا جس کے بعد سے ملک میں پولیو کی بیماری میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

متعلقہ تحاریر