گستاخانہ مواد کی تشہیر روکنے کے لیے او آئی سی کردار ادا کرے

تحریک تحفظ ناموس رسالت پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ او آئی سی اس تشہیری مہم کو روکے۔

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر روکنے سے متعلق معاملہ او آئی سی کے اجلاس میں اٹھانے کے لئے تحریک تحفظ ناموس رسالت پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری آئی ٹی کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی برس سے بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم جاری ہے، جس سے پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تربت میں سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک

کراچی نیب کی غیرفعال عدالتیں سرکاری خزانے پر بوجھ

درخواست میں کہا گیا کہ گستاخانہ مہم کی وجہ سے پاکستان کی نئی نسل گمراہ ہو رہی ہے، حکومت اور ریاستی ادارے اعلیٰ عدلیہ سمیت مختلف فورمز پر اس معاملے کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان سوشل میڈیا پر جاری گستاخانہ مہم کو تنہا نہیں روک سکتا۔

درخواست میں کہا گیا کہ حکومت اور ریاستی ادارے اعتراف کرچکے ہیں کہ جب تک تمام اسلامی ممالک اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل نہ بنائیں، اس وقت تک گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کا سدباب نہیں ہو سکتا، اس صورتحال میں اعلیٰ عدلیہ حکومت کو متعدد فیصلوں میں احکامات جاری کر چکی ہے کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر کا معاملہ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر اٹھایا جائے،  مگر عدالتی احکامات کے باوجود وفاقی حکومت نے مذکورہ معاملہ آج تک او آئی سی کے پلیٹ فارم پر نہیں اٹھایا۔

درخواست میں کہا گیا کہ او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس گزشتہ برس 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہو چکا ہے جبکہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا آئندہ اجلاس 22 مارچ کو پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہو رہا ہے، احکامات جاری کیے جائیں کہ حکومت اس معاملے کو او آئی سی کے آئندہ اجلاس میں اٹھائے۔

متعلقہ تحاریر