اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک بھر میں گندم کی یکساں قیمت مقرر کردی
ترجمان ای سی سی کا کہنا ہے حکومت کے اس اقدام سے بین الصوبائی سطح پر گندم کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
ملک بھر میں گندم کی بین الصوبائی اسمگلنگ روکنے کے لیے وفاق کا اہم ترین فیصلہ، گندم کی امدادی قیمت 1950 سے بڑھا کر 2200 روپے من کردی، ای سی سی کا کہنا ہے اس اقدام سے پنجاب کا کسان استحصال سے بچ جائے گا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک بھر میں گندم کی امدادی قیمت کو یکساں کرتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت 1950 روپے سے بڑھا کر 2200 روپے من کرنے کی منظوری دے دی ہے اور یوں پورے ملک میں گندم کی امدادی قیمت کا یکساں ریٹ لاگو ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
رواں مالی سال براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں6.1کا اضافہ ریکارڈ
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود
اس سے پہلے پنجاب میں 1950 روپے فی من امدادی قیمت کی وجہ سے کسان پریشان تھے۔ پنجاب کے کسان اپنی گندم اسمگل کرکے خیبر پختون خوا اور سندھ میں فروخت کرنے کی تیاری کر رہے تھے تاکہ انہیں بہتر قیمت مل سکے۔ اب جہاں گندم کی بین الصوبائی اسمگلنگ کا خاتمہ ہوگا وہیں پنجاب کے کسان کو بھی گندم کی بہتر امدادی قیمت ملے گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک بھر میں گندم کی امدادی قیمت کو یکساں کرتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت 1950 روپے سے بڑھا کر 2200 روپے من کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
کمیٹی نے گندم کی امدادی قیمت 1950 سے بڑھا کر 2200 روپے فی من کردی ، پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 1950 روپے اب 2200 روپے من میں گندم خریدی جائے گی۔
پنجاب میں 40 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی جائے گی۔ گندم کی خریداری کے لیے 220 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ خیبر پختون خوا میں 12 لاکھ ٹن گندم خریداری کی جائے گی۔
خیبرپختون خوا میں گندم کی خریداری کے لیے 72 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔ بلوچستان میں ایک لاکھ ٹن گندم خریدی جائے گی اور بلوچستان میں گندم کی خریداری کے لیے 6 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔
سندھ میں 14 لاکھ ٹن گندم خریدی جائے گی، سندھ میں گندم کی خریداری کے لیے 77 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ اس طرح ملک بھر میں چاروں صوبے مل کر 67 لاکھ ٹن گندم خرید کر اپنے ذخائر مستحکم کریں گے۔









