سکھر میں شراب کی غیرقانونی فروخت جاری، پولیس نے آنکھیں موند لیں

سیاسی، سماجی، مذہبی تنظیموں سمیت سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شراب کی کھلے عام فروخت پر حکام بالا سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سکھر میں غیرقانونی طریقے سے شراب کی کھلے عام فروخت کا سلسلہ جاری ہے ، جبکہ وائن شاپ مالکان کی جانب سے شراب خانوں کو میخانوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وائن شاپ مالکان نے شراب کو بیچنے کے ساتھ ساتھ پینے کے لیے آنے والوں کو پلانے کا بھی انتظام کرلیا ہے ، زیر نظر تصویر میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیپکو کا انوکھا کارنامہ ، میٹرز ٹرانسفارمر سے بھی اوپر نصب کر دیئے

تاجروں نے وزیر بلدیات ناصر حسین کا شہر لاوارث قرار دے دیا

سکھر میں "ہوئی شراب بہت مہنگی کے تھوڑی تھوڑی پیا کروِ” وائن شاپ مالکان کی من مستیاں بڑھ گئی، شراب کی کھلے عام غیرقانونی فروخت کا سلسلہ رک نہیں سکا ہے۔

محکمہ ایکسائز و ڈسٹرکٹ پولیس نے مکمل چشم پوشی اختیار کرلی ہے۔ خبر کے مطابق سکھر کے محکمہ ایکسائیز اور تھانہ اے سیکشن کے چند قدموں پر واقع شراب خانوں سے غیرقانونی شراب کی فروخت کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

شکارپور روڈ اور سوکا تلاب میں شراب خانوں کو میخانوں اور کلبز میں تبدیل کردیا گیا ہے وہاں پر شراب کی فروخت کے ساتھ ساتھ پلانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

شراب کی غیرقانونی طریقے سے فروخت معمول بن چکی ہے شراب خرید نے والوں میں بڑی تعداد مسلم نوجواں کی ہے جنہیں وائن شاپ مالکان کی جانب سے بغیر کسی رکاوٹ کے شراب کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے/

سکھر کے سیاسی، سماجی، مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں سمیت سول سوسائٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شراب کی کھلے عام فروخت سمجھ سے بالاتر ہے۔ کچھ عرصہ قبل تعینات ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک کی جانب سے سماجی برائیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں مگر وہ احکامات صرف بیانات تک محدود ہیں۔

سکھر میں شراب خانے رات دیر گئے تک کھلے رہتے ہیں اور وہاں سے شراب مسلم نوجوانوں کو فروخت کی جاتی ہے انہوں نے محکمہ ایکسائز کے افسران اور ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے شراب کی فروخت کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں اور مسلم نوجوانوں کی زندگی ضایع ہونے سے بچائیں۔

متعلقہ تحاریر