ماہی گیروں کی بستی ریڑھی گوٹھ سیوریج کے پانی میں ڈوب گیا

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے نااہل عملے کی وجہ سے چار سو سال پرانی بستی میں سیوریج کے گندے پانی سے جلدی اور پیٹ کی بیماریوں پھوٹ پڑی ہیں۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کا علاقہ ریڑھی گوٹھ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی نااہلی کی وجہ سے گندے پانی کا تالاب بند گیا ہے۔ سیوریج کے پانی کی نکاسی بروقت نہ ہونے سے علاقوں مکینوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ریڑھی گوٹھ سیوریج کے گندے پانی سے تالاب نظر آنے لگا ہے ، ماہی گیروں کی یہ بستی تقریباً چار سو سال پرانی بستی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں 16 لاکھ سے زائد کار اور موٹرسائیکل مالکان نمبر پلیٹس کے منتظر

کراچی کے مختلف اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تبدیل

افسوس کا مقام یہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے نااہل عملے کی وجہ سے علاقہ گندے پانی کے تالاب کا منظر پیش کررہا ہے۔

70 ہزار نفوس پر مشتمل بستی کے مکینوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔ ریڑھ گوٹھ میں 70 کے قریب محلے ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ریڑھی گوٹھ کا قاسم محلہ ،  وروانی محلہ ، شیخ محلہ ، پن محلہ ، دبلا محلہ ، لکھیا محلہ ، موسانی محلہ ، خلیفہ محلہ اور دیگر کئی محلے سیوریج کے پانی میں ڈوب ہوئے ہیں ، نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں ، لوگوں کو آنے جانے کےلئے اسی گندے سے میں سے گزر کر جانا پڑا ہے۔

بچے ، بڑھے ، نوجوان اور عورتوں میں پیٹ کی بیماریاں اور جلدی بیماریاں عام ہو گئی ہیں، علاج کرانے کے باوجود بیماری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن بیماریوں سے جان چھڑانے کے لیے دوائی کھائی جارہی ہے وہ وجوہات تو وہیں پر موجود ہیں یعنی سیوریج کا گندہ پانی اور اس سے اٹھنے والے گندے جراثیم ۔ جب تک علاقے سے سیوریج کا پانی صاف نہیں کیا جائے گا ، جراثیم کش اسپرے نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک بیماریوں پر قابو پانا ناممکن ہے۔

دوسری جانب علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے سے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز منتخب ہوتے ہیں ، مگر ہمارے علاقے کی ترقی کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاتا ہے ، متعدد مرتبہ حکام بالا سے علاقے کی دگرگوں حالت سے متعلق درخواستیں دی ہیں مگر کہیں کوئی شنید نہیں ہوتی ہے ۔

علاقہ مکینوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے محلوں کے سیوریج کے نظام کو ٹھیک کیا جائے تاکہ پانی کی نکاسی ہوسکے اور بیماریوں سے ہم محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ تحاریر