اتحادی حکومت کیساتھ نہیں رہے،اعلان میں ایک آدھ دن لگے گا،فضل الرحمٰن
ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کے بعد مکمل مطمئن ہوں، عمران خان بالکل تنہا ہوچکے، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین ہے، پی ڈی ایم سربراہ کی ایم کیوایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد آمد پر گفتگو

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ حلیف حکومت کے ساتھ نہیں رہے۔ ہمارے ساتھ چلنے کا فیصلہ کرنے اور باضابطہ اعلان کرنے میں ایک آدھ دن لگ سکتا ہے۔
مولانافضل الرحمٰن نے آج کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد کا دورہ کرکے ایم کیوایم پاکستان کی قیادت سے ملاقات کی۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
مریم نواز کے سوات جلسے کی منسوخی کی وجہ کیا بنی ؟
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے حلیف اب ان کے ساتھ نہیں رہے، انہیں ہمارے ساتھ ہونے کا اعلان کرنے میں ایک دو دن لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کے بعد مکمل مطمئن ہوں، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں جمیعت علماء اسلام کے وفد کی ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد آمد #Karachi #MQMP #MQM #Pakistan #OICInPakistan pic.twitter.com/vygzgXspLm
— Anisuddin (@Anisuddin86) March 22, 2022
فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان بالکل تنہا ہوچکے ہیں ، وہ اور ان کی جماعت کے رہنمامیڈیا اور جلسوں میں جو زبان استعمال کررہے ہیں وہ کسی شریف انسان کی نہیں، سمجھتا ہوں کہ اتنے بڑے منصب پر ایسے لوگوں کا ہونا مناصب کی بے توقیری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم دفتر سے مطمئن ہوکرجارہاہوں، موجودہ حالات پر اپوزیشن اور ایم کیوایم میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت کے دفاتر بند نہیں لیکن ہمارے ہیں، پی ٹی آئی حکومت سے ہمیں یہ امید تھی کہ کم از کم ہمیں حکومت میں رہنے کا جواز تو دیتی لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ بہت سارے معاملات میں وزیراعظم کے پاس اختیارات ہی نہیں تو پھر ایسی جمہوریت کا ہمیں بھی کوئی شوق نہیں، مولانا ہمارے پاس آئے ہیں تو ہمیں امید ہے کہ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے ، ملک کو مشکلات سے نکالنے کےلیے ہم ان کا اور وہ ہمارا ساتھ دیں گے۔
اس سے قبل بہادرآباد پہنچنے پر صحافیوں نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ گھبرانا ہے یا نہیں گھبرانا؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو گھبرانے والے نہیں ہیں۔









