سکھر شہر کے ناکارہ فلٹریشن پلانٹس اور سیوریج سسٹم عوام کے لیے وبال جان

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ فلٹریشن پلانٹس بند ہونے سے شہری صاف پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ گندے پانی کے عذاب نے عوام کا جینا مشکل بنا رکھا ہے۔

صوبہ سندھ کے اہم شہر سکھر میں نکاسی آب کے سسٹم کی خرابی کی وجہ  سے جنریٹر اور گاڑیاں شہریوں کے وبال جان بن گئی ہیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم درجنوں فلٹریشن پلانٹس بند ہونے سے عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔ شہری اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے اس صورتحال کا نوٹس لے کر فوری طور پر ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہر مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے مفلوج سسٹم کی بہتری اور سڑکوں پر جمع پانی کی نکاسی کے لئے میونسپل انتظامیہ نے بندر روڈ ، سمیت دیگر مقامات پر جنریٹر اور گاڑیاں کھڑی کرکے نکاسی آب کا عارضی عمل تو شروع کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سکھر ریلوے انتظامیہ کی نااہلی ، واک تھرو گیٹس غیرفعال

ماہی گیروں کی بستی ریڑھی گوٹھ سیوریج کے پانی میں ڈوب گیا

ضلعی انتظامیہ نے بندر روڈ سے زیرو پوائنٹ تک نکاسی آب کیلئے تین سے پانچ جنریٹر لگا رکھے ہیں ، جس کی مد میں سرکاری خزانے کو ڈیزل کے نام پر روزانہ ہزاروں روپے کا چونا لگایا جارہا ہے۔

سڑکوں پر جنریٹر رکھے جانے اور عارضی پائپ لائنوں کے باعث ٹریفک کی روانی میں خلل سمیت شہریوں بلخصوص مسافر گاڑیوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب شہری انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے سندھ کے تیسرے بڑے ضلع سکھر کی 27 لاکھ سے زائد آبادی آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، شہریوں کو پینے کا پانی دریائے سندھ سے واٹر ورکس کے ذریعے فراہم کیا جارہا ہے وہ بھی آلودہ ، بدبودار جو کے انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے ، جس کے استعمال سے گیسٹرو سمیت پیٹ کی دیگر بیماریاں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔

کئی سال قبل سکھر شہر سمیت ضلع بھر میں خطیر رقم خرچ کرکے لگائے گئے فلٹر پلانٹ ناکارہ اور بند پڑے ہیں، حکومت اور انتظامیہ کی توجہ اور تھوڑی سی کوشش سے یہ فلٹر پلانٹس دوبارہ قابل استعمال بنائے جاسکتے ہیں اور عوام کو پینے کا صاف پانی خرید کر پینے سے چھٹکارے کے ساتھ ساتھ غریب عوام کو پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔

سابق ضلعی حکومت اور بلدیاتی دور میں تعمیر کئے گئے یہ فلٹر پلانٹ کچھ عرصہ چلنے کے بعد ہی خراب ہوگئے جن کی درستگی کے لئے کئی سال گزر جانے کے باوجود ابتک اقدامات نہیں کئے جاسکے ہیں۔

شکایت کے باوجود موجودہ حکومت سکھر انتظامیہ ، منتخب نمائندگان نے بھی آج تک ان فلٹر پلانٹس کو چلانے کیلئے کوئی کوششیں نہیں کیں، جس کے باعث ضلع بھر میں منرل واٹر کا کاروبار عروج پر پہنچ چکا ہے شہری مجبوراً منرل واٹر کا استعمال کررہے ہیں جبکہ اکثریت آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے۔

شہری حلقوں نے منتخب نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی فوری طور پر یقینی بنانے کیلئے یہ بند پڑے فلٹر پلانٹ دوبارہ چلائے جائیں، اور منتخب نمائندگان ، ایڈمنسٹریٹر سکھر ، میونسپل کمشنر ،او ایس ہیلتھ برانچ ،کمشنر سکھر ، ڈپٹی کمشنر و دیگر بالا حکام نکاسی آب کے ناکارہ سسٹم کا نوٹس لیکر شہریوں کو سیوریج کے گندے پانی سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ تحاریر