اپوزیشن کا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مطالبہ، اجلاس اتوار تک ملتوی

وفقہ سوالات کے دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ قوم چاہتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کروائی جائے۔

اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مطالبہ نہ ماننے پر احتجاج کرتی رہ گئی۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کو صبح ساڈھے 11 بجے تک ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے چار بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم اجلاس تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اجلاس کی صدارت کی۔

یہ بھی پڑھیے

محکمہ تعلیم سندھ نے رمضان المبارک میں اسکولوں کے اوقات کار جاری کردیے

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا جاتے جاتے پنجاب کے نئے انتظامی یونٹس بنانے کااعلان

قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں موجود آئٹم نمبر 2 وقفے سوالات پر مشتمل تھا۔ وقفہ سوالات کا آغاز ہوا تو سوالات پوچھنے والے اپوزیشن کے تمام اراکین اٹھ کھڑے ہوئے اور تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کا مطالبہ کردیا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے تقریباً ڈیڑھ سو ارکان موجود تھے  جن میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی شامل تھے۔اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ قوم چاہتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کروائی جائے۔

ڈپٹی اسپیکر نے اس موقع پر کہا کہ کوئی رکن وقفہ سوالات میں دلچسپی نہیں لے رہا اور  کوئی سنجیدہ نہیں، اس لیے اجلاس اتوار 3 اپریل کو صبح ساڈھے 11 بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔

جس پر ایوان میں موجود اپوزیشن ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہوکر شدید احتجاج کیا۔

اس سے قبل اجلاس شروع ہوا تو مشیر پارلیمانی امور بابراعوان نے قومی اسمبلی چیمبر میں قومی سلامتی کمیٹی بریفنگ کے لیے استعمال کی تحریک پیش کی۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان میں رائے شماری کروائی، ایوان میں موجود تمام ارکان نے نا میں جواب دیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے تحریک مسترد کردی اور اعلان کیا کہ اب کمیٹی کا اجلاس ، کمیٹی نمبر 2 میں ہوگا۔

متعلقہ تحاریر