فنڈز کی عدم فراہمی ، ہینڈز کے زیراہتمام ایک اسپتال اور 34 مراکز صحت بند

دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ او ملیر کو اسپتال چلانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

کراچی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہینڈز نے سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی پر اپنے ایک اسپتال کو بند کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق غیرسرکاری تنظیم ہینڈز نے اپنے اسپتال بند کر دئیے ملازمین کو کام سے روک دیا ہے۔

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری اور ملیر میں ایک اسپتال پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت ہینڈز چلا رہی تھی۔ اس کے علاوہ 34 صحت کے بنیادی مراکز بھی ہینڈز چلا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

16 ناجائز منافع خور گرفتار، 163 گراں فروشوں پر ساڑھے6 لاکھ روپے جرمانہ

عوام جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کرے، ایس ایس پی سکھر

ہینڈز کے حکام کا کہنا ہے فروری میں سندھ حکومت سے معاہدہ ختم ہو گیا جس کے بعد نیا معاہدہ نہیں ہو سکا۔ اسپتال بند ہونے سے ضلع ملیر کے لاکھوں مریض مشکلات کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ مریضوں نے سول اور جناح اسپتال کا رخ کر لیا۔

دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ او ملیر کو اسپتال چلانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ او ملیر کے پاس ان اسپتالوں کو چلانے کے لئے مطلوبہ بجٹ نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر