سندھ کے شہری بدترین گرمی میں پانی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا

حالیہ دنوں میں سندھ کے کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پر زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ٹھٹھہ، بدین، سجاول، کے ٹی بندر، دادو اور سہون شریف سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے آبادگاروں اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک جانب محکمہ موسمیات نے سخت ترین ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کررکھا ہے جبکہ دوسری جانب کراچی سمیت سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔

ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کرتے ہوئے پی ایم اے نے مقامی لوگوں سے درخواست کی ہے گھروں کے اندر رہیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے سورج کی روشنی سے بچیں۔

ہیٹ ویو کی موجودہ صورتحال میں بجلی کی طلب میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ جبکہ کے الیکٹرک موجودہ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے ، کمپنی کو طلب اور رسد کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے کچھ علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مون سون سے نمٹنے کے لئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں، کمشنر کراچی

سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، مشیر جیل خانہ جات کی ساری ٹیم فارغ

محکمہ موسمیات کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والے ہیٹ الرٹ کے مطابق وسطی اور بالائی سندھ کے علاقے شدید گرمی کے لپیٹ میں رہیں گے جبکہ یہ لہر 16 سے 17 مئی تک جاری رہ سکتی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مناسب حفاظتی اقدامات کریں۔ بدھ کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں پی ایم اے نے محکمہ موسمیات کی موسمیاتی ایڈوائزری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ میں 11 سے 16 مئی تک شدید ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے دوران کراچی میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے جبکہ دادو، سکھر میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ لاڑکانہ، جیکب آباد، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، شکارپور اور گھوٹکی کے اضلاع میں درجہ حرارت 46 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے

دوسری جانب کراچی سمیت سندھ بھر میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اپنی پالیسی نہ بدلی اور بروقت ایکشن نہ لیا تو سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں سندھ کے کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پر زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ٹھٹھہ، بدین، سجاول، کے ٹی بندر، دادو اور سہون شریف سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے آبادگاروں اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پانی کی قلت کا سامنا صرف صوبہ سندھ میں ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے کئی علاقے بھی پانی کی قلت سے شدید متاثر ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں گوادر میں پانی کی قلت پر پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں جس نے پورے بلوچستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی گرین بیلٹ کہلانے والے نصیر آباد کو بھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دریائے سندھ سے پانی نہیں مل رہا جس سے زراعت اور کاشتکاری متاثر ہو سکتی ہے۔

ہیٹ ویو ، پانی کی قلت سے پریشان کراچی کے شہریوں کو بجلی فراہم کرنے والے واحد ادارے کے الیکٹرک نے گرمی کے موسم میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا ہے۔

کراچی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10 سے 14 گھنٹے تک جا پہنچا ہے اور زیرو لوڈشیڈنگ والے علاقوں کو بھی بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔

ماڈل کالونی، میراتھ سوسائٹی، یوپی موڑ، نارتھ کراچی، گڈاپ، کورنگی، گارڈن، کھارادر، اولڈ سٹی ایریا اور دیگر علاقوں میں رات کے اوقات میں بجلی کی طویل بندش کا سامنا رہا۔

پاور سیکٹر پر پڑنے والے اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے، ڈائریکٹر کمیونیکیشنز اور کے-الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا نے کہا ہے کہ "ممکنہ طور پر تمام متاثرہ صارفین کو کے الیکٹرک کا لوڈمینجمنٹ کا شیڈول جاری کردیا گیا تھا ، صنعتی زونز میں کام کرنے والے 400 فیڈرز کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جارہی ہے۔”

ان کا کہنا ہے صورتحال کو سنبھالا دینے کے لیے کمپنی کے چیف ڈسٹری بیوشن آفیسر کی سربراہی میں 24/7 کرائسز مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر