برگر کنگ نے خواتین کو باورچی خانے تک محدود کردیا
برگر کنگ نے اخبار میں دیے گئے اشتہار، ٹوئٹ اور انسٹاگرام پر لکھا کہ ’خواتین کی جگہ باورچی خانے میں ہے‘۔
8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر برگر کنگ یو کے چیپٹر کے ٹوئٹ ’خواتین کی جگہ باورچی خانے میں ہے‘ نے پوری دنیا میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
برگر کنگ نے ایک اخبار میں اشتہار دیا جس میں لکھا گیا تھا کہ ’خواتین کی جگہ باورچی خانے میں ہے‘۔ یہی جملہ فوڈ چین نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا اور انسٹاگرام کی اسٹوری میں بھی شیئر کیا تھا۔
Or the big text in the instagram post? Or the big text in the New York Times ad? pic.twitter.com/DBncU4XTmV
— Aiden Ocelot (@squidninja120) March 8, 2021
چند سوشل میڈیا صارفین نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لکھے جانے والے اس جملے کے اسکرین شاٹ اور تصاویر لے لی تھیں۔ اس جملے نے لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا تھا جس پر سوشل صارفین نے ٹوئٹ حذف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے
کرونا کی وبا کے دوران برگر کنگ کا انوکھا اقدام
سوشل میڈیا صارفین کی بےجا تنقید کے بعد برگر کنگ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس ٹوئٹ کو غلط سمجھا گیا ہے۔ ہم صرف ریسٹورنٹ کی صنعت میں خواتین شیفس کی کمی کی طرف اشارہ کرنا چاہتے تھے۔‘
جب ایک صارف نے برگر کنگ سے پوچھا کہ ایسے عجیب ٹوئٹ کو پوسٹ کرنے کی اجازت ادارے کے اعلی حُکام نے کیسے دے دی؟ تو برگر کنگ نے مذید وضاحت کی کہ ’کیا یہ عجیب بات نہیں برطانیہ کی ریسٹورنٹ کی صنعت میں صرف 20 فیصد خواتین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برگر کنگ نے وضیفے شروع کیے ہیں تاکہ زیادہ خواتین اِس شعبے میں اپنا پیشہ ورانہ سفر جاری رکھ سکیں۔
We hear you. We got our initial tweet wrong and we’re sorry. Our aim was to draw attention to the fact that only 20% of professional chefs in UK kitchens are women and to help change that by awarding culinary scholarships. We will do better next time.
— Burger King (@BurgerKingUK) March 8, 2021
تاہم وضاحت پیش کرنے کے تقریباً آدھا دن گزر جانے کے بعد برگر کنگ نے عوامی دباؤ کے بعد معافی مانگتے ہوئے ٹوئٹ کو حذف کردیا تھا۔









