عریانیت کے فروغ کے باعث ’24 نیوز‘ پر پابندی کا مطالبہ

نجی نیوز چینل نے پورن اسٹار میا خلیفہ کی خبر قابل اعتراض تصویر کے ساتھ شائع کی تھی۔

پاکستان کے نجی نیوز چینل ’24 نیوز‘ نے پورن اسٹار میا خلیفہ کی خبر قابل اعتراض تصویر کے ساتھ شائع کی ہے جس کے بعد چینل پر پابندی کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔

پیر کے روز مختصر دورانیے کی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے پاکستان میں لبنانی نژاد اسپورٹس اینکر، ماڈل و اداکارہ میا خلیفہ کے اکاؤنٹ کو غیر فعال کردیا ہے جس کے بعد اداکارہ نے پاکستانی مداحوں کے لیے ٹوئٹر پر مواد اپ لوڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ثانیہ مرزا اور شعیب ملک کی تصاویر میں غلط کیا؟

پاکستان کے نامور نجی نیوز چینل نے اس خبر کو شائع تو کیا لیکن اس کے ساتھ قابل اعتراض تصویر لگا کر۔ نجی نیوز چینل نے بظاہر یہ تصویر اپنی ویب سائٹ پر زیادہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے لگائی ہے لیکن یہی اقدام ان کی غلطی ثابت ہوئی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس وقت بین 24 نیوز کے نام سے ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اس ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹر صارفین کی بڑی تعداد چینل پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

نجی نیوز چینل نے انٹرنیٹ صارفین کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے پہلی مرتبہ ایسی تصویر شائع نہیں کی ہے بلکہ ماضی میں بھی کئی اداکاراؤں کی خبروں کے ساتھ ان کی مختصر لباس میں تصاویر لگائی ہیں۔

محمد اسد سعید نامی ٹوئٹر صارف نے چینل کے اس اقدام کو سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ قرار دیتے ہوئے پیمرا سے فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

منظور آرائیں نامی صارف نے لکھا کہ ہمیں عریانیت نہیں بلکہ خبریں چاہئیں۔

اس معاملے میں پیمرا کی خاموشی پر کئی ٹوئٹر صارفین سوال کر رہے ہیں۔

24 نیوز کی جانب سے غیرذمہ دارانہ صحافت کا رویہ صرف عریانیت پھیلانے پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ بےوجہ کی تنقید کو بھی اس چینل نے اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے۔ حال ہی میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے عید پر لی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو 24 نیوز نے بےمعنی کی تنقید کا پہلو نکالتے ہوئے خبر لگائی کہ جوڑے نے شرمناک تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

چینل نے اپنی خبر میں وضاحت تک نہیں کی تھی کہ ان تصاویر میں ایسا کیا عجیب و غریب یا شرمناک ہوا تاہم شہ سرخی لگا کر سادہ تصاویر کو بھی سنسنی خیز بنانے کی ناکام کوشش کی تھی۔

متعلقہ تحاریر