ڈان نے صحافیوں کیلئے بڑی خوشخبری کو صفحہ اول کی زینت بنانا مناسب نہ سمجھا

ڈان کی ایک خوبی یہ تھی اس نے مستقبل کے صحافیوں کیلئے اعلیٰ‌ترین تربیت گاہ کا کردار ادا کیا

صدر مملکت عارف علوی نے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے ایکٹ  پر دستخط کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو خطرہ پیش آنے کی صورت میں یہ قانون انہیں زندگی کی حفاظت اور بدسلوکی کے خلاف تحفظ کا حق فراہم کرتا ہے۔

1941 سے قائم برصغیر کے سب سے قدیماور معتبر  انگریزی زبان کے اخبار ’’ڈان‘‘ جو پاکستان میں   آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے توانا آواز سمجھاجاتا تھا، روزنامہ ڈان کی ایک خوبی یہ تھی کہ اس نے مستقبل کے صحافیوں کے لیے اعلیٰ‌ترین تربیت گاہ کا کردار ادا کیا اور یہ حقیقت ہے کہ انگریزی صحافت میں بے شمار صحافیوں کا ظہور روزنامہ ڈان کے باعث ہوا۔

یہ بھی پڑھیے 

صحافیوں کے تحفظ کا بل، صدر مملکت عارف علوی آج دستخط کریں گے

میڈیا ہاؤسز نے اربوں روپے کمائے، بےروزگار صحافی خودکشیوں پر مجبور

ان تمام حقائق  کے باوجود  روزنامہ ’’ڈان ‘‘ اب صحافیوں اور آزادی اظہار کے حوالے سے  سمجھوتہ کرتا ہوا نظر آرہا ہے ، گذشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے اسلام آباد میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے ایکٹ پر دستخط کیئے  اور اس اہم قانون سازی پر اتفاق رائے پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔

غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو یہ پاکستانی صحافی برادری اور آزادی صحافت کے علمبردار اداروں  کےلئے ایک غیر معمولی  اہم خبر ہونا چاہئے تھی تاہم  دیکھا یہ گیا کہ   آزادی صحافت کے سب سے بڑے اور معتبر ادارے ڈان نیوز نے اس اہم خبر کو وہ اہمیت نہیں دی جس اہمیت کے یہ خبر لائق تھی ۔

چاہئے تو یہ تھا کہ اس غیر معمولی خبر کو صفحہ اول کی زینت بنایا جاتا تاہم انتظامیہ کی جانب سے اس خبر کو دیگر معمول کی خبروں کی طرح   پیش کیا گیا اور اس کے لئے اندرونی صفحات کا انتخاب کیا گیا /۔

متعلقہ تحاریر