پاکستان 2022 کیلئے اقوام متحدہ کے گروپ آف 77کا چیئرمین منتخب
G77 کے 134 ارکان اور چین کا 2022 میں گروپ کی قیادت کے لیے پاکستان پر اعتماد کا پرمشکور ہیں

پاکستان کو 2022 کےلئے اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کے سب سے بڑا بین الحکومتی گروپ آف 77کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا ہے جس کا فیصلہ ورچوئل فارمیٹ میں ہونے والے گروپ آف 77اور چین کے45ویں وزارتی اجلاس میں کیا گیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے خطاب کیا اور G77 کے 134 ارکان اور چین کا 2022 میں گروپ کی قیادت کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گروپ کے ممبران کے ساتھ مل کر ترقیاتی ایجنڈےکوفروغ دینےکیلئے کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے
ماحولیاتی تبدیلی: دنیا کو اقوام متحدہ کی وارننگ
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا غزہ تنازعے کی تحقیقات کا حکم
A big diplomatic success for Pakistan as 134 members of #G77 reposed trust in Pakistan to lead the group in 2022. With development agenda, Pakistan elected chair of "Group of 77” pic.twitter.com/ePveepdu2z
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) December 2, 2021
اس حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کےمستقل مندوب منیراکرم نے کہا کہ یقین ہے کہ گروپ 77 اور چین ان مقاصد کو حاصل کرنے اور چیلنجوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کو کورونا وائرس کی عالمی وباء ، پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے ایجنڈے 2030 کو عملی جامہ پہنانے کا چیلنج اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑے بحرانوں کا سامنا ہے جس کا ترقی پذیر ممالک پر غیر متناسب اثر پڑا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحران سے جامع اور مساوی بحالی تبھی ممکن ہو گی جب ترقی پذیر ممالک کو پائیدار اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر واپس آنے کے لیے مناسب ذرائع خصوصاً مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔
وزیرخارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ 77 گروپ اور چین کے اگلے سربراہ کے طور پر، پاکستان گروپ کے ممبران کے ساتھ مل کر ایسے ترقیاتی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گا جس میں قرضوں کی تنظیم نو ، ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے سالانہ موسمیاتی فنانس میں 100 بلین ڈالر تک کا اشتراک ہونا ا، ترقی پذیر ممالک سے اربوں کے غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو روک نا اور ان کے چوری شدہ اثاثوں کی ان ممالک میں بحفاظت واپسی اور ایک منصفانہ اور سہل تجارتی نظام اور ایک منصفانہ بین الاقوامی ٹیکس نظام کی تخلیق شامل ہوگی ۔









