تکیوں کی لڑائی اب بیڈروم میں نہیں باکسنگ رنگ میں ہوگی
دنیا کی پہلی Pillow Fight Championship کا انعقاد، خواتین اور مردوں کی الگ الگ کیٹگریز میں مقابلے ہوئے، 24 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

تکیوں کی لڑائی اب بیڈ روم سے نکل کر باکسنگ رنگ تک جا پہنچی ہے، 29 جنوری کو پہلی Pillow Fight Championship (PFC) منعقد کی گئی۔
اس میں اسٹیلا نیونز پہلی چیمپیئن قرار پائی ہیں، ایونٹ میں 16 حضرات اور 8 خواتین نے حصہ لیا تھا اور اپنے خاص تکیے اور باکسنگ گلووز لے کر آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
شوٹنگ کے دوران اداکار سے گولی چل گئی، خاتون ٹیم ممبر ہلاک ایک زخمی
کار ریسلنگ : روس میں تیزی سےمقبولیت حاصل کرنے والا کھیل
برازیل سے تعلق رکھنے والی نیونز نے امریکا کی کینڈال وولکر کو خواتین کے آخری مقابلے میں شکست دی، دوسری طرف ہولی ٹلمین نے مینز فائنل میں مارکس بریمیج کو ہرایا۔
Pillow fighting is moving out of the bedroom and into the boxing ring with the Pillow Fight Championship (PFC) holding its first live, pay-per-view event in Florida https://t.co/0iLG8xya1D pic.twitter.com/xZiHNHAkux
— Reuters (@Reuters) January 31, 2022
پی ایف سی کے سی ای او اسٹیو ولیمز کے مطابق پی ایف سی میں ہاتھوں سے لڑائی لڑی جاتی ہے اور مکسڈ مارشل آرٹس یا باکسنگ کی طرح کوئی ڈرامہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں کہ آپ تکیوں کی لڑائی میں ایک جگہ بیٹھے رہیں گے اور ہنسیں گے اور آپ کے ارد گرد روئی اڑ رہی ہوگی۔
یہ سنجیدہ لڑائی ہے کیونکہ اس میں خاص تکیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایم ایم اے فائٹس اور ہماری فائٹس میں بس یہ فرق ہے کہ یہاں کوئی زخمی نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلوان زخمی ہونا نہیں چاہتے، اور بہت سے لوگ ہیں جو خون نہیں دیکھنا چاہتے، لوگ اچھا مقابلہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس مقابلے میں تشدد بھی ہو۔









