امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کردیئے

افغان عوام اور 9/11 حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں میں 7 ارب ڈالرز کی رقم تقسیم ہوگی، صدارتی حکم نامہ جاری۔

مہینوں کے انتظار کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے جمعہ کو ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کرکے افغانستان کے منجمد ہوئے 7 ارب ڈالر کے اثاثوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔

آدھی رقم افغانستان کو دی جائے گی جبکہ آدھی رقم 11 ستمبر کے دہشتگردانہ حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو ملے گی۔

امریکی انتطامیہ نے افغانستان کے مرکزی بینک ‘دا افغان بینک’ میں موجود اثاثوں کو پچھلے سال اگست میں منجمد کردیا تھا۔

یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کہ کابل پر 15 اگست کو قبضہ کرکے اقتدار سنبھالنے والے طالبان ان فنڈز تک رسائی حاصل نہ کرسکیں۔

صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ فنڈز جاری کرنے کا حکم نامہ افغانستان میں انسانی اور معاشی بحران سے نمٹنے کیلیے ہمارے اقدامات کا حصہ ہے اور یہ رقم افغان عوام کے فائدے کے لیے خرچ کی جائے گی۔

صدارتی حکم نامے کے بعد امریکہ میں موجود افغان بینک کے اثاثے امریکی مالیاتی اداروں کی تحویل میں ہوں گے، بعد ازاں مالیاتی ادارے ان اثاثوں کو نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں منتقل کریں گے۔

عدالتی حکم کے بعد امریکی انتظامیہ ساڑھے تین ارب ڈالر کے اثاثے افغان عوام کے مفاد کیلیے منتقل کرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔

امریکہ میں دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے بہت سے افراد کے لواحقین نے طالبان کے خلاف دعویٰ دائر کر رکھا ہے اور افغان بینک کے اثاثوں پر وفاقی عدالت میں مقدمہ زیرسماعت ہے۔

صدارتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر افغان عوام کے مفاد میں فنڈز ٹرانسفر کردیئے جائیں تو بھی افغان بینک کے 3.5 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے امریکہ میں ہوں گے اور ملک میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کو عدالتی حکم کے بعد ملیں گے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ صدارتی حکم نامہ افغان عوام تک فنڈز کی رسائی کا راستہ بنائے گا جبکہ طالبان اور فسادی عناصر کی پہنچ سے دور کرے گا۔

متعلقہ تحاریر