پی ٹی آئی حکومت کا انتخابی اصلاحات سے متعلق نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق حکومت کی قانونی ٹیم تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آرڈیننس کو اگلے ہفتے منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے آرڈیننس کے حوالے سے وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ اس آرڈیننس کی منظوری کے بعد وزیراعم ، وفاقی وزراء اور اراکین پارلیمان تمام طرح کی انتخابی مہم میں شرکت کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیے
سید خورشید شاہ نے ماحولیاتی آلودگی کو کورونا سے بڑا خطرہ قرار دے دیا
عالیہ حمزہ نے مریم نواز کے خلاف ایف آئی اے کو شکایتی خط لکھ دیا
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق حکومت کی قانونی ٹیم تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آرڈیننس کو اگلے ہفتے منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال مئی میں پی ٹی آئی کی حکومت نے انتخابات اصلاحات کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔
نئے انتخابی اصلاحاتی پیکج کے مطابق انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ کا طریقہ رائج کیا جائے گا۔
نئے پیکج میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے ترامیم لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
نئے پیکج کے مطابق سینیٹ میں اوپن اور قابل شناخت بیلٹ اور سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کے لیے آئینی ترمیم کی جائے گی۔
واضح رہے کہ مذکورہ بالا انتخابی اصلاحاتی پیکج کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت نے نومبر 2021 میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کا بل پیش کیا اور اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے باوجود بل منظور بھی کرالیا تھا۔
حکومت نے اپوزیشن کے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ اور احتجاج کے باوجود الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا ترمیمی بل منظور کرالیا تھا۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت دیگر پارٹیاں بھی اسی طرح کے مطالبات کرتی ہیں کہ اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ پارٹیوں کی قیادت الیکشن کمیشن کے تمام ضابطہ اخلاق کو پس پشت ڈالتے ہوئے جلسے جلوسوں میں شرکت کے لیے پہنچ جاتی ہے۔ اس آرڈیننس کی منظوری سے کم از کم یہ اعتراض کو ختم ہو جائے گا۔ اس لیے اگر تمام جماعتوں کو اس آرڈیننس کی منظوری کےلیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔









