واٹر بورڈ حکام کی نااہلی، ضلع سینٹرل میں پانی کی چوری جاری
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق انچارج اینٹی تھیفٹ سیل واحد شیخ غیر قانونی پانی مافیا کی سرپرستی کرنے لگے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) و ایڈمینسٹریٹر سینٹرل کراچی طٰہٰ سلیم اور میونسپل کمشنر سینٹرل زاہد رند کی سرپرستی میں ضلع سینٹرل میں پانی کی چوریوں کے خلاف کاروائیاں تیز کردی ہیں تاہم ضلع سینٹرل میں پانی کی چوری کا معاملہ نہیں رک سکا۔
واٹر بورڈ حکام کے پانی چوری کو روکنے کے دعویٰ دھرے کے دھرے رہ گئے۔ نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق عمیر انٹر پرائزیز کے مالک اور پانی کی چوری میں ملوث شکیل مہر نے ایک مرتبہ پھر ضلع سینٹر کی عوامی کو پانی سے محروم کرنے کی ٹھان لی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور میں قانون شکن ڈرائیور کو ڈرامے بازی مہنگی پڑگئی، مقدمہ درج
رحیم یار خان میں گھریلو ناچاقی پر خاتون سب انسپکٹر کی خودکشی
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق ضلع انتظامیہ پانی چوروں کے ساتھ متحرک ہو گئی ، انچارج اینٹی تھیفٹ سیل واحد شیخ غیر قانونی پانی مافیا کی سرپرستی کرنے لگے ہیں ، لسبیلہ لیاری ندی سے سائٹ ایریا تک پانی کی 8 انچ قطر لائن ڈال ڈی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان غنی نے کروڑوں کی رشوت کے عوض لسبیلہ سے سائٹ ایریا تک 5 کلومیٹر غیر قانونی لائن ڈلوانے کا بیڑا اٹھا لیا، غیر قانونی پانی کی لائن واٹر بورڈ کی ریپیرنگ کے نام پر ڈالی گئی۔

شکیل مہر اس سے قبل بھی پانی کی چوری میں ملوث ہے جن پر مقدمات بھی زیر التوا ہیں ، شکیل مہر ریزی ڈینشل علاقوں سے پانی چوری کر کے انڈسٹریز سائٹ کو سپلائی کرتے ہیں ، پانی کی چوری لائین کی مرمت کے بہانے کی جا رہی ہے ، قانون کے مطابق نئی سڑک کو کھودنا غیر قانونی ہے۔










