کوئٹہ: پانچ سالہ بچے پر تشدد کرنے والے دو پولیس اہلکار گرفتار
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
کوئٹہ کے پشتون آباد تھانے میں پانچ سالہ بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے والے دونوں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے پشتون آباد تھانے میں بچے پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں کھلبلی مچ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی میں قتل ہونے والی 22 دن کی بچی کی قاتل والدہ نکلی
ہتک عزت کیس، ایف آئی اے نے نادیہ خان کو بری کردیا
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو پولیس اہلکار تھانے کے اندر نابالغ لڑکے کو بری طرح سے بالوں سے پکڑ کر تھپٹر مار رہے ہیں ، اور کانوں کو پکڑ کر گھما رہے ہیں۔ پولیس اہلکار بچے کے گالوں پر بےدردی سے تھپڑ مار رہے ہیں۔
کوئٹہ پشتون آباد تھانے میں بچے پر تشدد کیا جارہا ہے ( ویڈیو بشکریہ کوئٹہ ٹائم/@HashiMandokhail ) pic.twitter.com/Jt1TabRSQ9
— Naimat Khan (@NKMalazai) March 18, 2022
کوئٹہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) غلام اظفر نے جمعہ کی شام ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ "ہم نے دونوں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے ایک ہی تھانے میں بند کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ نابالغ لڑکے پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ یہ واقعہ یکم جولائی 2021 کو پیش آیا تھا۔ باپ اور اس کے بیٹے نے مبینہ طور پر ایک دکاندار سے موبائل فون چوری کیا تھا۔
بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) محسن حسن بٹ کا کہنا تھا کہ ” دونوں پولیس اہلکاروں کی طرف سے تشدد ایک غیر انسانی فعل تھا۔”
محسن حسن بٹ کا مزید کہنا تھا کہ محکمے میں ایسے پولیس والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عام لوگوں اور سوشل میڈیا کے کارکنوں نے ایک نابالغ لڑکے کو مارنے پر پولیس کی سخت تنقید کی تھی جس کے بعد حکومت کارروائی کرنے پر مجبور ہوگئی۔









