ہم خواتین کو خودمختار بنانے پر کام کررہے ہیں، وفاقی وزیر خزانہ
شوکت ترین کا کہنا ہے کہ 87فیصد ریٹیلرز ٹیکس نہیں دے رہے، اب ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ٹیکس لیا جائیگا۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ وفاق حکومت خواتین کو خودمختار بنانے کے پروجیکٹس پر کام کررہی ہے۔ ہمیں عورتوں کے متعلق مردوں کے ذہن بدلنے ہونگے.
ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ شوکت ترین نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شوکت ترین کا کہنا تھا ہم خواتین کو خودمختار کرنے پر کام کررہے ہیں ، ہماری بچتوں کی شرح بہت کم ہے ، مسلسل ترقی کے لیے نچلے طبقے کو اوپر لانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ہاشی گروپ آف کمپنیز کے دو سال مکمل ہونے پر رنگا رنگ جشن
بروقت گاڑی ڈیلیور نہ کرنے پر ایم جی موٹرز کو جرمانہ
انہوں نے کہا کہ ہمیں 30 سالوں تک 6 سے 7 فیصد کی شرح سے ترقی کرنی ہے ، جن ممالک نے ترقی کی وہاں سیاسی عدم استحکام نہیں ہے ، پالیسییز کا تسلسل بھی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر کی وجہ سے ہماری معیشت چل رہی ہے ، پانچ سالوں میں آئی ٹی کی برآمدات 50 ارب ڈالرز سے لے جاینگے۔
ٹیکس کی وصولیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف 20 لاکھ افراد ٹیکس دے رہے ہیں، جب تک ٹیکس وصول نہیں دیا جایگا ہمیں باہر سے قرضہ لینا پڑیگا، اگلے چند ہفتوں میں ٹیکس نادہندہ پر ہاتھ ڈالینگے، اب ہر حالت میں ٹیکس دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 87فیصد ریٹیلرز ٹیکس نہیں دے رہے، اب ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ٹیکس لیا جائیگا۔
قرضوں سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دیہی اور شہری نوجوانوں کو سود کے بغیر قرضے دییے جارہے ہیں، غریب بینک کا پیسہ واپس کرتا ہے، امیر کھا جاتا ہے، تعمیراتی شعبے ہمیں بہت امیدیں وابستہ ہیں، تعمیراتی شعبہ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ چین کو کہا ہے کہ اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کریں۔ توانائی کے شعبے میں خرابیوں کو دور کیا گیا ہے۔ 15 سرکاری ادارے سالانہ 5سو ارب روپے کا نقصان کررہے ہیں۔









