عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 4 ڈالر فی بیرل کی کمی
بینک آف امریکہ نے 2022-23 کے لیے برینٹ کروڈ کی اوسطاً قیمت 102 ڈالر فی بیرل کی پیشن گوئی تھی ۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر فی بیرل کی کمی واقع ہوئی، برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر سے نیچے گر گئی ، قیمتوں میں کمی چائینہ کی جانب سے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران اسٹور کیا گیا تیل مارکیٹ میں لانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے رکن ممالک اگلے چھ مہینوں کے دوران 60 ملین بیرل تیل جاری کریں گے، جبکہ امریکہ نے اعلیٰ کیا تھا کہ وہ اس تیل سے مماثلت رکھنے والا 180 ملین بیرل تیل مارچ میں جاری کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں سیاسی ہلچل غیریقینی کی صورتحال پیدا کررہی ہے،موڈیز
پی ایس ایکس میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں 1700 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ چین میں ہونے والی پیشرفت کو بھی دیکھ رہی ہے، جہاں حکام نے 26 ملین آبادی والے شہر شنگھائی کو کورونا وبا کے دوران "زیرو ٹالرنس” پالیسی کے تحت مکمل بند کر دیا تھا۔ چینی حکام نے پیر سے کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا شروع کردی ہے۔
جون کی ڈیلیوری کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت 3.93 ڈالر یا 3.8 فیصد کمی کے ساتھ 98.85 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 4.19 ڈالر یا 4.3 فیصد کم ہوکر 94.07 ڈالر پر آگیا ہے۔
بینک آف امریکہ نے 2022-23 کے لیے برینٹ کروڈ کی اوسطاً قیمت 102 ڈالر فی بیرل کی پیشن گوئی تھی ۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی سٹونووو کا کہنا ہے کہ "حکمت عملی کے تحت اسٹور کیے گئے تیل کے ذخائر کے اجراء سے آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کی سختی کو کم کرنے میں مدد ملے گی ، جس سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔”
ان اقدامات کا مقصد روسی خام تیل کی کمی کو پورا کرنا ہے جب ماسکو کو یوکرین پر اس کے حملے پر سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ ماسکو اس حملے کو ایک "خصوصی فوجی آپریشن” کے طور پر لے رہا ہے۔









