الیکشن کے انعقاد تک سڑکوں پر رہیں گے، عمران خان کا بڑا اعلان

سابق وزیراعظم کا کہنا ہے امریکہ کی مسلط کی گئی امیورٹڈ حکومت نامنظور ہے ، 4 ہزار کروڑ روپے کی کرپشن میں ملوث شخص شہباز شریف کو وزیراعظم بنا کر اس ملک کے ساتھ ظلم کیا گیا۔ عدلیہ بتائے رات کے 12 بجے عدالت کیوں لگائی گئی۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے حقیقی آزادی کی جنگ آج سے شروع ہو گئی ہے، ہمیں امریکہ سے معافی کی ضرورت نہیں ہے، اداروں سے پوچھتا ہوں کہ کیا غلام نیوکلیئر پروگرام کی حفاظت کرسکتے ہیں؟ امریکہ کو شریفوں اور زرداریوں کی عادت ہے۔

پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتےہوئے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا میں اداروں سے پوچھتا ہوں میں کیا جرم کیا تھا جو رات کے بارہ بجے عدالت لگائی گئی ، پاکستان میں جب بھی کسی وزیراعظم کو ہٹایا جاتا تھا تو مٹھائیاں تقسیم کی جاتی تھیں مگر مجھے ہٹایا گیا تو آپ نے لوگوں نے کہاں پر آکر مجھے عزت دی ، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اتوار کو جس طرح سے میری قوم سارے پاکستان میں نکلی اس پر میں اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

یہ بھی پڑھیے

بیرونی طاقتیں عمران خان کو قتل کروانے کی کوشش کرسکتی ہیں، شیخ رشید

وزیراعظم آفس کی طرف سے وائٹ ہاؤس کے بیان کا خیرمقدم

عمران خان کا کہنا تھا میں بتادینا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک قوم بن چکا ہے۔ جو بھی یہ سوچتا تھا کہ امپورٹڈ گورنمنٹ یہ قوم تسلیم کرلی گی تو جان لو کہ اتوار کو ساری پاکستانی قوم نے سڑکوں پر نکل کر بتایا ہےکہ انہیں امپورٹڈ حکومت منظور نہیں ہے۔ ہماری قوم کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے، ہم نے آج فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم غلامی چاہتے ہیں یا آزادی چاہتے ہیں۔ کیا ہم امریکیوں کے غلاموں کی غلامی کرنے آئے ہیں، یا حقیقی آزادی حاصل کرنے آئے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا ہم کسی بے غیرت حکومت کو نہیں مانتے، جو حکومت باہر سے مسلط کی گئی یہ سارے لوگ ضمانت پر ہیں ، شہباز شریف ضمانت پر ، حمزہ شہباز ضمانت پر ، نواز شریف مجرم ، اس کا بیٹا مفرور ، داماد مفرور ، نواز شریف کی بیٹی ضمانت پر۔ امریکہ نے اس ملک کی توہین کی ہے کہ ہمارے ملک کے اوپر بڑے بڑے ڈاکوؤں کو مسلط کردیا ہے۔ کیا یہ قوم کبھی اس کو قبول کرے گی؟ یہ قوم ان ڈاکوؤں کو کبھی تسلیم نہیں کرے گی ، اب میں پاکستان کے ہر شہر میں نکلوں گا ، اپنی غیرت مند عوام کو ان بے غیرتوں کے خلاف کھڑا کروں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ہفتے کو کراچی آرہا ہوں اور جمعرات کو لاہور کے مینار پاکستان پر آرہا ہوں ، میں سب کو چیلنج کرتا ہوں جو اب آپ عوام کو نکلتا دیکھیں گے ، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اس طرح عوام سڑکوں پر نہیں جو "ان شاء اللہ” میں سڑکوں پر نکالوں گا۔

شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پر 4 ہزار کروڑ روپے کے کرپشن کے کیسز ہیں ، کیا ہم مانیں گے اس کو اپنا وزیراعظم؟ سب کان کھول کر سن لیں ہم ان چوروں کو اس ملک پر حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ یہ 1970 کا پاکستان نہیں ہے ، جب امریکیوں نے سازش کرکے ذوالفقار علی بھٹو کو ہٹایا تھا ، ان چوروں اور میر جعفروں نے اس کو سپورٹ کیا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے باشعور لوگوں کا پاکستان ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا پاکستان ہے ، 6 کروڑ پاکستان میں موبائل فونز ہیں ، موبائل فونز ہمارے نوجوانوں کی آواز بن گیا ہے ، ان کے منہ کوئی بند نہیں کرسکتا ہے۔ شہباز شریف جو تم ہمارے سوشل میڈیا ورکرز کے اوپر کریک ڈاؤن کررہے ہو ، کان کھول کر سن لو جس دن ہم نے کال دے دی ، تو تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے ان ججز اور آزاد عدلیہ کے لیے جیل میں ٹائم گزارہ ہے ۔ کیونکہ ہم نے خواب دیکھا تھا کہ ایک دن آزاد عدلیہ اس ملک میں کمزور لوگوں کے ساتھ کھڑی ہو گی ، طاقتور کے ساتھ نہیں کھڑی ہو گی۔ میں عدلیہ سے پوچھتا ہوں کہ رات کے اندھیرے میں آپ نے جب عدالتیں لگائیں ، مجھے بتائیں میں نے کبھی قانون توڑا ، کبھی کسی نے کہا کہ عمران خان میچ فکسنگ کرتا ہے۔ 25 سال سے سیاست کررہا ہوں میں کبھی اپنے ملک کے اداروں اور عدلیہ کے خلاف اپنی قوم کو نہیں بھڑکایا۔ کیونکہ میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔

متعلقہ تحاریر