ملک میں ایک مرتبہ پھر مذہب کارڈ کھیلنے کی تیاری جاری ہے، اداکار عثمان خالد بٹ

ٹوئٹر صارفین کا کہنا ہے سیاست کے لیے مذہب کو کارڈ کے طور پر استعمال کرنا سراسر شرمناک فعل ہے جس کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مسجد نبویﷺ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر ردعمل دیتے پاکستان ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کے معروف اداکار عثمان خالد بٹ نے اس بات کا خدشہ کیا ہے کہ ملک کے اندر پھر سے منظم انداز میں مذہب کارڈ کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عثمان خالد بٹ نے لکھا ہے کہ ” ایک بار پھر مذہب کو سیاسی فائدے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔”

یہ بھی پڑھییے

حدیقہ کیانی اپنا مشہور گیت”بوہے باریاں“ چرانے پر بھارتی گلوکارہ پر برہم

حکم تو نفس مارنے کا تھا ، یہاں تو ضمیر مرے ہوئے ہیں، ثنا فخر

عینی قریشی نامی ٹوئٹر صارف نے عثمان خالد بٹ کے ٹوئٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "براہ کرم اپنی آواز کو بلند کریں اور دیگر مشہور شخصیات کو بھی اس میں شامل کریں۔”

سیاست کے لیے مذہب کو کارڈ کے طور پر استعمال کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے معروف نیوز اینکر عبداللہ سلطان نے لکھا ہے کہ "یہ سراسر شرمناک فعل ہے۔”

علیم صدیقی نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ ” یہ 1974 سے پاکستانی سیاست کی روایت ہے۔”

ایک بلاگر نے لکھا ہے کہ ” ان لوگوں سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے! اس دن کا انتظار ہے، جب پاکستان میں عقل اور شعور واپس آئے گا۔”

واضح رہےکہ گذشتہ مسجد نبوی ﷺ میں کچھ لوگوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ گئے وفد کے ساتھ بدتمیزی کی ، انہیں اس مقام پر گالی گلوچ کا نشانہ بنایا گیا جہاں اونچی آواز میں بات کرنے کی بھی اجازت نہیں چہ جائے کہ آپ کے عمال ضائع ہو جائیں۔

پی ٹی آئی قیادت کے کچھ لوگوں نے جذباتی لوگوں کے عمل کو سراہا مگر پاکستانیوں سمیت دنیا بھر میں اس عمل کو برے الفاظ سے یاد کیا گیا اور اسے ایک شرمناک عمل قرار دیا گیا ۔ یہاں تک پاکستان کی مسیحی برادری نے بھی پی ٹی آئی کارکنان کی حرکت کو شرم ناک قرار دیا ۔

وہیں اب حکومت نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے مسجد نبویﷺ پر سابق وزیراعظم عمران خان ، شیخ رشید ، فواد چوہدری اور شہباز گل سمیت 150 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ تحقیق کے بعد عمران خان کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر